ترکی میں ناکام بغاوت کے 6 سال مکمل، شہباز شریف اور عمران خان کے پیغامات

وزیراعظم شہباز شریف اور عمران خان کا ترک عوام سے اظہار یکجہتی

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے 6 سال مکمل ہونے پر یوم جمہوریہ منایا جارہا ہے، اس موقع پر ترکیہ میں مختلف تقاریب کا انعقاد کرکے 16 جولائی 2016 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ترک صدر طیب اردگان اور ترکیہ کے عوام کو مبارکباد دی ہے۔

جمعہ کے روز کے یوم جمہوریت و قومی یکجہتی کے موقع پر اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ دن ترک قوم کی طرف سے جمہوریت کے تحفظ اور بالادستی کے عزم کا اظہار ہے، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرکے کہا کہ یوم جمہوریت اور قومی اتحاد کے موقع پر میں صدر اردوگان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس دن صدر اردوگان نے اہل ترکیہ کی مدد سے فوجی بغاوت کی کوشش ناکام بنائی۔

دریں اثنا دفتر خارجہ نے آج ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ان تمام شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ترکیہ کے عوام اور حکومت کے شانہ بشانہ ہیں جنہوں نے ترکیہ کی جمہوریت اور استحکام کیلئے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان صدیوں پر محیط مشترکہ مذہب ثقافت، لسانی اور روحانی ورثے پر مبنی مثالی تعلقات ہیں اوردونوں ملک وقت کی ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں۔

ترک یوم جمہوریہ کے موقع پراسلام آباد میں ترک سفارتخانے میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس سے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا ترکیہ اور پاکستان کی دوستی لازوال ہے، 15 جولائی کی فوجی بغاوت اور جمہوریت کے خلاف سازش ناکام بنانے میں پاکستان اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا تھا۔

15 جولائی کی رات

15 جولائی 2016ء کی رات ترک فوج کے باغیوں نے رجب طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ پلٹ کر اقدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، فوجی باغیوں نے ابتدا میں ایوان صدر اور پارلیمان کا محاصرہ کیا اور ملک بھر کے ہوائی اڈے بند کرکے ٹینک پہنچادیئے۔

ترک صدر نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تو لوگوں کا جم غفیر اُمڈ آیا، ترکی کی عوام نے فوجی ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہوکر جمہوری حکومت کے خلاف سازش کو بری طرح ناکام بنایا۔

اس دوران جھڑپوں میں باغی فوجیوں سمیت 250 سے زائد افراد ہلاک اور 2000 سے زائد زخمی ہوئےتھے، ترک صدر طیب اردوگان نے بغاوت کا الزام گولن تحریک کے سربراہ فتح اللہ گولن پر عائد کیا تھا اور ہزاروں فوجیوں کو گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں برطرف کردیا گیا تھا۔

IMRAN KHAN

Recep Tayyip Erdogan

Shehbaz Sharif

failed coup

Turkiye

Tabool ads will show in this div