نیب میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی تفصیلات نہیں بتائی جائیں گی

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس قائم مقام چیئرمین نیب ظاہر شاہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیب نئے قانون نیب ترمیمی ایکٹ 2022ء پر من و عن عمل کرے گا۔

اجلاس کے حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیب قانون پر عمل درآمد کیلئے ڈی جی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں آپریشن ڈویژن کے ڈائریکٹر، پراسیکیوشن ڈویژن کے لیگل کنسلٹنٹ، آپریشن ڈویژن نیب ہیڈ کوارٹرز کے متعلقہ ڈیسک آفیسر بھی شامل ہوں گے۔

کمیٹی جاری انکوائریز اور انوسٹی گیشنز کا نیب کے نئے قانون کی روشنی میں جائزہ لے گی، اور متعلقہ انکوائری، انوسٹی گیشن جاری رکھنے، بند کرنے یا متعلقہ محکمے کو بھجوانے سے متعلق رپورٹ دے گی۔ رپورٹ منظوری کیلئےایگزیکٹو بورڈ میں پیش ہوگی ،جہاں قانون اپناراستہ خود بنائے گا

اعلامیئے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں ایگزیکٹو بورڈ نے 13 انکوائریوں اور 5 انویسٹی گیشنز بند کرنے کی منظوری دے دی، تاہم نئے قانون کے مطابق شروع کی گئی انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کی تفصیلات نہیں بتائی جائیں گی۔

نیب اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کے اجلاس میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے سابق چیف ہائیڈروگرافر میراج اے سید اور دیگرکیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ملزمان پراختیارات کا ناجائز استعمال اور سرکاری فنڈز میں خرد بردکا الزم ہے، اور اس خردبرد سے قومی خزانے کو تقریباً 794 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ کےخلاف انکوائری بندکرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے افسران و اہلکاروں کے خلاف تحقیقات میں عدم شواہد کی بنا پر اسے بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

شیخ عابد وحید سابق ایم ڈی پاکستان بیت المال کے خلاف بھی انکوائری روک دی گئی ہے، جب کہ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائریزی بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

NAB

Chairman NAB

Tabool ads will show in this div