ملک میں جاری بارشیں، کہیں ابررحمت تو کہیں زحمت

بلوچستان میں 58 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں

مون سون کے پہلے اسپیل نے جہاں کئی شہروں کا موسم خوشگوار بنادیا وہیں ابررحمت زحمت بن کر برسی، اور متعدد علاقوں بالخصوص بلوچستان میں بارشوں نے تباہی مچادی، اور محتاط اندازے کے مطابق اب تک 58 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد

آج وقفے وقفے سے ہونے والی بارش سے اسلام آباد اور راولپنڈی ميں گرمی اور حبس کی چھٹی ہوگئی اور موسم تو خوشگوار ہو گيا، لیکن راولپنڈی کے نشيبي علاقوں میں پانی بھر گیا، کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 12 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 9 فٹ ريکارڈ کی گئی، ریکارڈ کی گئی، واسا کے عملے نے ہيوی مشينری کے ذریعے نکاسی آب کا آپریشن مکمل کیا۔ ٹیموں نے کئی مقامات سے بارش کا پانی نکالا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ تھرٹین کی عمارت کی بیسمنٹ میں بھی پانی داخل ہونے سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر بیسمنٹ سے پانی نکالا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن بھی موقع پر پہنچ گئے۔

ترجمان واسا کے مطابق صبح تقریباً 6 بجے جڑواں شہروں میں 55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اور محکمہ موسميات نے عید الضحٰی پر مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پيش گوئی کر رکھی ہے۔

لاہور

بارش نے لاہور کا موسم سہانا بنا دیا ہے، جب کہ موسم کا حال بتانے والوں نے عید پر بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ ڈائریکٹر میٹ شاہد عباس کا کہنا ہے کہ لاہور میں عید کے پہلے دو دن بار ش ہوگی۔

بلوچستان کے اضلاع میں بارشوں سے تباہی

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں اب تک 58 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اور صوبے میں مون سے سون بارشوں سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔

ضلع گوادر میں مون کے نئے اسپیل سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، تیز بارشوں کے سبب کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئیں ، گلی محلوں اور مارکیٹوں میں پانی جمع ہو گیا ، پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

ضلع کوہلو میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ 45 خاندانوں میں خیمے راشن اور امدادی اشیاٗ تقسیم کی گئیں ،قربان علی مگسی نقصانات کا جائزہ لیا اور تخمنہ لگانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں اب تک مون سون بارشوں سے 56 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوئے، 436 مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے، 670 مکانات منہدم، 5 پلوں اور ایک قومی شاہراہ کو نقصان پہنچا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلع واشک میں طوفانی بارشوں کے باعث درخت سے گرنے سے لڑکا جاں بحق ہوگیا، حالیی بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ا58 ہوگئی ہے متاثرہ علاقون میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ خاندانوں کے لئے 5 پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

کوئٹہ اور گردونواح میں بارش کے باعث شہر کی نالیاں ابل پڑیں، سیٹلائٹ ٹائون اور عبدااللہ ٹائون میں بھی دیواریں گرنے کے واقعات تصدیق ہوئے ہیں تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، پشین اور قلعہ عبداللہ کے درمیان ڈیم میں شگاف پڑگیا ہے۔

بارشوں کے سبب تیز بارش کے باعث پشتون آباد میں مدرسے کی دیواریں گر گئیں، موٹرسائیکل پانی میں بہہ گئی اور ٹریکٹر پھنس گیا۔ پشین میں بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کی نقل مکانی شروع کردی ہے۔

کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے پی ڈی ایم اے آفس کا دورہ کیا اور انہیں بارشوں و سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، کور کمانڈر کو نقصانات اور بحالی کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

کراچی

کراچی میں بارش کا بعد جہاں موسم سہانا اور خوشگوار ہوگیا ہے وہیں مون سون کے پہلے اسپيل نے شہر بھر ميں جل تھل کر رکھا ہے، بادل برسے تو سندھ حکومت کے نالوں کی صفائی کے دعوے پانی کے ساتھ ہی بہہ گئے اور سڑکیں ندی اور نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

بارش نے شہر کے مختلف علاقوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور عید کی خریداری کے لئے منتظر عوام گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

شہر میں ہونے والی والی تازہ بارش میں کراچی کا معاشی اور تجارتی حب ایم اے جناح روڈ نمائش سے ٹاور تک پانی میں ڈوب گیا ہے، جب کہ اطراف کی سڑکیں بھی اپنی خستہ حالی اور پانی کی وجہ سے سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ لائٹ ہاؤس سے ٹاور جانے والی ایم اے جناح روڈ بند کردی گئی ہے اور شہر کی اہم شاہراہ پر نظام زندگی معطل ہوچکی ہے۔

ضلع جنوبی کے کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں، نالے ابل پڑے اور نکاسی آب کا نظام بيٹھنے سے شہر کا تجارتی حب دريا بن گيا، سب سے تباہ کن صورتحال آئی آئی چندریگر روڈ تھی، جو مکمل طور پر ڈوب گئی اور لوگوں کو کشتیوں پر ریسکیو کرنا پڑا۔ آئی چندریگرروڈ پر شدید بارش کے باعث موٹرسائیکل سوار افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ سڑک پر پانی گھٹنوں گھٹنوں تک ہے جب کہ کوئی پرسان حال نہیں تھا، آئی آئی چندریگر روڈ پر دو ایمبولنس بھي بارش کے پانی میں خراب ہوگئيں۔

سڑک پر پانی تاحال جمع ہے، تاہم بارش تھمنے کے 2 گھنٹے بعد انتظامیہ کی جانب سے نکاسی آب کا کام شروع کرنے کی وجہ سے پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔

شدید بارش کی وجہ سے کراچی کی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ بھی پانی میں ڈوب گئی ہے، اور برنس روڈ کی دکانوں ميں پانی داخل ہوگيا، حکومت سندھ کی جانب سے رین ایمرجنسی کے دعوے دھرے رہ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کے دفتر کے ایم سی بلڈنگ کے سامنے سڑک بھی ڈوب گئی، جب کہ لیاری کی سڑکیں بھی پانی میں غائب ہو گئی ہیں۔

Rain

Monsoon Rain

rain in karachi

Tabool ads will show in this div