وزیراعظم ہاؤس اور آفس کو ایک ماہ میں شمسی توانائی پر منتقل کرنیکا فیصلہ

قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان یکم اگست کو کیا جائے گا

وزیراعظم کی زیر صدارت انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وزیرِاعظم ہاؤس اور آفس کو ایک ماہ کے اندر شمسی توانائی پر منتقل کرنے سمیت سولر اور گرین انرجی سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے جبکہ قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان یکم اگست کو کیا جائے گا۔ شہباز شریف کہتے ہیں حکومت ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر توانائی سمیت دیگر اہم افراد نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم ہاؤس اور آفس کو ایک ماہ میں شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان یکم اگست کو ہوگا۔

وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ باقاعدہ پروگرام کے تحت سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کیا جائے گا، اس کی بہترین مثال پارلیمان ہے، شمسی توانائی کا منصوبہ ہے، منی سولر گرڈز کی بھی تجویز ہے، جہاں بھی چھوٹے فیڈرز کے قریب جگہ دستیاب ہے، وہاں ایک ایک میگا واٹ کے چھوٹے پلانٹ لگائے جائیں گے۔

اجلاس میں سولر اور گرین انرجی پر منتقلی کے حوالے سے مزید اہم فیصلے بھی کئے گئے، قومی سولر انرجی پالیسی کا اعلان یکم اگست کو کیا جائے گا۔ پالیسی کا نفاذ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن سے چلنے والے پاور ہاؤسز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنایا جائے، شمسی توانائی سے پیدا کی گئی بجلی سستی ہوگی، عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔

پاکستان

PM house

SOLAR ENERGY

Green Energy

Tabool ads will show in this div