بلوچستان: بارشوں کے باعث حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 60 ہوگئی

بارشوں کے باعث سینکڑوں گھر مہندم، فصلیں اور باغات تباہ

بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونےوالی اموات کی تعداد 60 ہوگئی۔

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں سیلابی ریلے نے گاؤں کو ملیا میٹ کردیا۔ سیلاب میں بہنے سے 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ضلع پشین کے علاقے کلی ملک یار میں سیلابی ریلے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پنجگور میں دیوار گرنے سے 4 بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نصیراحمدناصر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کے خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ ہے۔

نصیراحمدناصر کا کہنا ہے کہ بارشوں نے کچے مکانات، فصلوں اور مال مویشی کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔

ضلع کوہلو میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا سوناری پل تاحال بحال نہ ہوسکا ۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کوہلو کا کا کہنا ہے کہ متاثرہ پل کی بحالی کے لئے سیلابی ریلہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر کوئٹہ میں نالوں کی صفائی شروع کردی گئی ہے، سیاحتی مقامات جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جبکہ پی ڈی ایم اے ، لیویز ، ایف سی اور پاک فوج بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔

بلوچستان

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div