لیاری کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پر طلبہ کے پیسے ہتھیانے کا الزام، تحقیقاتی کمیٹی قائم

رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور پرنسپل شبانہ بلوچ کی الگ الگ پریس کانفرنسیں

لیاری جنرل اسپتال کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پر طلبہ کی رقم ہتھیانے کا الزام لگادیا گیا، محکمہ صحت نے تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی۔ سید عبدالرشید کا کہنا ہے کہ لیاری جنرل اسپتال، کالج آف نرسنگ اور بے نظیر میڈیکل کالج میں ہونے والی کرپشن کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ جوابی الزام لگاتے ہوئے کالج آف نرسنگ کی پرنسپل شبانہ بلوچ کا کہنا ہے کہ مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں، ایم پی اے سید عبد الرشید ایڈمیشن کرانے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

لیاری جنرل اسپتال کالج آف نرسنگ کے اسٹوڈنٹس نے پرنسپل کے خلاف جمعرات کے روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا، نرسنگ اسٹوڈنٹس نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جبکہ کالج پرنسپل کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

احتجاج کرنے والے نرسنگ اسٹوڈنٹس نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل شبانہ بلوچ نے ان کے اکاؤنٹس منجمد (فریز) کروا دیئے ہیں اور بینک منیجر سے ساز باز کرکے اور اسٹوڈنٹس کو دھمکا کر ان کے اکاؤنٹس سے پیسے نکلوائے جارہے ہیں۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل کی بات نہ ماننے پر انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور ہراساں کیا جاتا ہے۔

لیاری سے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سے معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے، کہتے ہیں لیاری کے مقامی تھانوں کے ایس ایچ اوز سارے کام کی سرپرستی کرتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیاری جنرل اسپتال کے نرسنگ اسٹوڈنٹس کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، انہیں 18ماہ سے وظیفہ نہیں دیا جارہا اور اب ڈھائی لاکھ روپے فی اسٹوڈنٹس سندھ حکومت نے ان کے اکاؤنٹس میں جاری کئے ہیں لیکن ان کے اکاؤنٹ منجمد کردیئے گئے ہیں۔

نرسنگ اسٹوڈنٹس کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیر صحت سندھ اور صحت کے پارلیمانی سیکریٹری سے بھی ملاقات کرچکا ہوں، اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد بھی منظور ہوچکی ہے لیکن پرنسپل کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیاری جنرل اسپتال، کالج آف نرسنگ اور بے نظیر میڈیکل کالج کرپشن کے گڑھ بن چکے ہیں، ڈاکٹر انجم رحمان، شبانہ بلوچ، عزیر لعل اور دیگر مل کر ان اداروں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کررہے ہیں۔

عبدالرشید نے مزید الزام لگایا کہ ریاض نامی کلرک اور 5 مراعات یافتہ سی آر ہر اسٹوڈنٹ کے ساتھ جاتے ہیں اور پیسے نکلوانے کے بعد برانچ کے باہر سے اسٹوڈنٹس کو ڈرا دھمکا کر پیسے چھین لئے جاتے ہیں جو غریب طلبہ سے دن دیہاڑے ڈکیتی کے مترادف ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب تک 6 اسٹوڈنٹس کے پیسے چھینے جاچکے ہیں، 2 اسٹوڈنٹس اپنے پیسے لے کر بھاگ گئے، جنہیں بعد میں کالج آنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

سید عبد الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اس پورے معاملے پر 2 ماہ پہلے اسپیشل کمیٹی بنائی تھی لیکن لگتا ہے کمیٹی بھی اس مافیا کے آگے بے بس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیاری میڈیکل کالج کا ایک ملازم (احسن علی، نائب قاصد) جو 2012ء انتقال کرچکا، اس کی قبر موجود ہے لیکن اس کی تنخواہ آج بھی جاری ہورہی ہے۔

محکمہ صحت سندھ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی قائم کردی۔ جس کی سربراہی ڈپٹی سیکریٹری صحت ریاض احمد جاکھرانی کریں گے جبکہ غلام شبیر اور خادم حسین اراکین ہوں گے۔

ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ نے بھی اسٹوڈنٹس کو وظیفہ بروقت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب لیاری جنرل اسپتال کالج آف نرسنگ کی پرنسپل شبانہ بلوچ نے کراچی پری کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سید عبدالرشید ان پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کررہا ہے۔

اپنے اسٹاف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عبدالرشید مجھ پر اسٹوڈنٹس کے ایڈمیشن کیلئے دباؤ ڈال رہا تھا تاکہ اپنا یونٹ یہاں کھول سکے، مجھ پر جھوٹے مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی، مجھے تھانے بلایا گیا کہ میں نے اسٹوڈنٹس سے موبائل چھینا ہے اور انہیں ہراساں کیا ہے۔

شبانہ بلوچ نے کہا کہ ہم نے کسی نرسنگ اسٹوڈنٹ سے پیسے نہیں چھینے یہ محض الزام ہے، مجھے ہر دفعہ ہٹایا گیا لیکن میں ہمیشہ سرخرو ہوئی ہوں اور مجھ پر الزامات جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔

اسٹاف حبیبہ انجم نے کہا کہ تین سال سے اسٹوڈنٹس کو وظیفہ نہیں مل رہا، یہ واجبات ہیں جو ایک سال کے آئے ہیں، ایک سال سے جو اسٹوڈنٹس نہیں آرہے تو انہیں پرنسپل کیسے کلیئر قرار دے اور جو اکاؤنٹ فریز ہوتا ہے اسے بینک منیجر بھی نہیں کھلوا سکتا۔

محکمہ صحت کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ سیکریٹری صحت سندھ نے ڈائریکٹر نرسنگ شبیر جتھیال کو اسٹوڈنٹس اور ایم پی اے سید عبد الرشید سے مل کر معلومات لینے کی ہدایت کی تھی اور جلد اس معاملے کی شفاف تحقیقات کیلئے ایک نکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔

ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن سندھ کے جنرل سیکریٹری سید شاہد اقبال نے بھی وزیر صحت سندھ اور سیکریٹری صحت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ نرسنگ اسٹوڈنٹس کو بروقت وظیفہ دینے کیلئے تمام پرنسپلز کو پابند کریں کہ وہ غریب اسٹوڈنٹس تک وظیفہ پہنچائیں، اگر کسی کالج آف نرسنگ میں وظیفہ روکنے کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں، اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے اور معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے۔

کراچی

HEALTH

LIYARI COLLEGE OF NURSING

Noman Jul 07, 2022 10:33pm
Crupt shabana Na manzoor
Tabool ads will show in this div