رواں سال عید قرباں پچھلے سالوں سے مختلف کیوں؟

مہنگائی، بارش اور لمپی اسکن کے باعث نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں

مویشی منڈی کے بیوپاری امجد علی کہتے ہیں کہ وہ کئی سالوں سے عید قرباں پر پنجاب اور اندرون سندھ سے جانور لے کر آتے ہیں اور مقامی چھوٹی منڈیوں میں بیچتے ہیں، اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے لائے گئے جانور چند روز پہلے ختم ہوجاتے ہیں جس پر وہ سپرہائی وے یا بھینس کالونی سے مزید چند جانور لا کر بیچ دیتے ہیں لیکن اس سال صورتحال بالکل مختلف ہے۔

امجد علی کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے جانوروں کی ٹرانسپورٹیشن لاگت بڑھ گئی ہے پھر لمپی اسکن کا خطرہ بیوپاریوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

امجد کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی جانور متاثر نہیں ہوا لیکن ان کے کئی دوستوں کے جانور لمپی اسکن سے متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ کم جانور لائے ہیں، اوپر سے بارش نے پریشان کردیا ہے۔

مویشی منڈیوں کے کئی اور بیوپاری بھی اسی قسم کے مسائل کا رونا روتے نظر آرہے ہیں۔ بھینس کالونی کے بیوپاری اکرم بھٹی کا کہنا ہے کہ عام طور پر عید سے ایک ہفتے قبل جانوروں کی خرید و فروخت کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں لیکن اس سال بدھ تک منڈیوں میں صورتحال یہ تھی کہ بیوپاریوں کو خریدار نہیں مل رہے تھے اور گاہکوں کو مطلب کے جانور۔

اکرم بھٹی کے مطابق ایسا نہیں کہ لوگ جانور نہیں خریدیں گے لیکن ایسا لگتا ہے عید کے بالکل قریب یعنی ایک یا دو دن پہلے ہی رش بڑھے گا، اس وقت منڈی میں جانور زیادہ ہوئے تو ریٹ گر جائیں گے لیکن اگر جانور کم ہوئے تو قیمت زیادہ ہوں گی۔ اکرم بھٹی کا کہنا ہے کہ اگر قربانی کرنے کے رجحان میں نمایاں کمی آگئی تو غیر متوقع صورتحال بھی سامنے آسکتی ہے۔

اجتماعی قربانی کا رجحان بڑھ گیا

الخدمت فاؤنڈیشن کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن کراچی کی جانب سے 250 مراکز میں اجتماعی قربانی کی بکنگ کی جارہی ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال اجتماعی قربانی بکنگ کی شرح 20 تا 25 فیصد زیادہ ہے، جس کی وجہ بنیادی طور پر مہنگائی ہے۔

راشد قریشی کا کہنا ہے کہ عام طور پر جو لوگ بڑے جانور کی انفرادی قربانی کرتے تھے وہ اجتماعی قربانی میں 2، 3 حصے بک کررہے ہیں۔

جامعہ بنوریہ سائٹ کے ذمہ دار مولانا نذزیر ناصر کا بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس آن لائن اور اجتماعی قربانی کرنے والوں کی تعداد پچھلے سال سے بڑھ گئی ہے۔ نذیر ناصر کے مطابق انفرادی قربانی کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اجتماعی قربانی میں 15 تا 18 ہزار روپے کا حصہ ہے۔

ایک فلاحی ادارے کے ذمہ دار کا کہنا ہے کہ فلاحی اداروں کے پاس اجتماعی قربانی کی بکنگ بڑھ گئی ہے لیکن وقف قربانی میں کمی دیکھی جارہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ شہری واجب قربانی تک محدود ہوگئے ہیں، مستحب قربانی یا اضافی قربانی کرنے کا رجحان مہنگائی کی وجہ سے کم ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ وقف قربانی سے مراد وہ قربانی ہے جس میں قربانی کرنے والا گوشت کا تقاضہ نہیں کرتا اور اس کے حصے کا گوشت فلاحی ادارے غریب مسکینوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔

شہری خوبصورتی اور وزن پر کمپرومائز کرنے پر مجبور

قصبہ کالونی کے رہائشی خالد محمود کے مطابق وہ اور ان کے بھائی ہمیشہ بیل یا بچھیا خریدتے رہے ہیں لیکن ہمارے بجٹ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ میں کوئی بیل نہیں ملا، جس پر ہم نے مجبوراً بڑی عمر کی گائے خریدی۔

جانوروں کے بیوپاری وحید گدی کے مطابق ویسے تو گزشتہ تین 4 سال سے کٹوں کی قربانی ہورہی ہے تاہم رواں سال یہ رجحان اور بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 90 ہزار میں جو جانور ملتے تھے وہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک بک رہے ہیں اور ایک لاکھ 20 تا 25 ہزار روپے والے جانور ڈیڑھ لاکھ روپے میں بھی بمشکل مل رہے ہیں، یہی حال اس سے اوپر کے جانوروں کی ہے، ڈیڑھ لاکھ یا ایک لاکھ 60 ہزار روپے والے جانور 2 لاکھ روپے سے اوپر میں فروخت ہورہے ہیں، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے شہری ایک لیول نیچے آکر خریداری کررہے ہیں۔

پاکستان

EID UL AZHA

EID UL AZHA 2022

Tabool ads will show in this div