بارشوں سے بلوچستان میں سب سے زیادہ تباہی،45 افراد جاں بحق

لیویز کی گاڑی ریلے میں بہہ گئی
<p>بشکریہ دی ہندو ڈاٹ کام</p>

بشکریہ دی ہندو ڈاٹ کام

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ تباہی بلوچستان میں ہوئی ہے، جہاں 18 خواتین اور 16 بچوں سمیت 45 افراد جاں بحق ہوئے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بلوچستان ميں بارشوں سے نقصانات زیادہ ہوا ہے، جہاں مختلف حادثات میں 45 افراد جاں بحق ہوئے۔

جاں بحق ہونے والوں میں 18 خواتین،11 مرد اور 16 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر حادثات میں 47 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جب کہ صوبے بھر میں 241 مکانات منہدم ہوئے۔

پشین

پشين ميں بارشوں کا پانی سيلاب کی صورت حال اختيار کر گيا ہے۔ مختلف علاقوں ميں متعدد مکانوں کی چھتيں منہدم ہوگئيں، جب کہ سيلابی صورت حال کے باعث لوگوں کی نقل مکانی بھی شروع کردی گئی ہے۔

امدادی کارروائیوں میں مصروف لیویز کی گاڑی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔

پشین کے علاقے کلی ڈب خانزئی کراس، منزکی، ملکیار دامان، شیخالزئی میں سیلابی ریلے کی تباہی مچائی۔

خضدار

خصدار ميں موسلا دھار بارشوں کا پانی گھروں ميں داخل ہوگيا۔ دریائے مولہ میں درمیانی درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔

طوفانی بارشوں کے سلسلے میں کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے، جب کہ تمام پکنک پوائنٹس پر 10 دن تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔

کوہلو

کوہلو اور گرد و نواح کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں سے سوناری کے مقام پرسیلابی ریلے سے پل بہہ گيا۔

پل بہہ جانے سے کوہلو کا کوئٹہ سمیت اندرونی بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگيا۔ متاثرہ قومی شاہراہ کی بحالی کیلئے امدادی کارروائی شروع نہیں ہوسکی، جب کہ رابطہ سڑکیں بھی سیلاب سے متاثر ہوئیں۔

کئی علاقوں میں کچے مکانات منہدم ہوگئے ، جب کہ بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔

سندھ

گھوٹکی کے علاقے قاضی نہر ميں چاليس فٹ کا شگاف پڑ گيا۔ جس سے سیکڑوں اراضی پر کھڑی گنے اور کپاس کی فصلیں زیرآب آگئیں اور پانی گھروں کی طرف بڑھنے لگا ہے۔

سیلابی صورت حال پر قابو پانے کیلئے علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ صبح 10 بجے تک آخری اطلاعات تک محکمہ انہارکا عملہ امداد کیلئے نہیں پہنچ سکا۔

ملتان

ملتان میں ہونے والی بارش نے واسا کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ مختلف شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے سے تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بوسن روڈ، حضوری باغ روڈ، رشیدآباد روڈ پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات ہے۔

flood

بلوچستان

weather

NDMA

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div