ایف آئی اے کورٹ راولپنڈی نے صحافی عمران ریاض کیس کا فیصلہ سنا دیا

عدالت نے کیس میں میں ایف آئی اے کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیدیا

ایف آئی اے کورٹ راولپنڈی نے صحافی عمران ریاض گرفتاری کیس میں ایف آئی اے کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیدیا۔

اینکرپرسن عمران ریاض کو راولپنڈی میں اسپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران وکیل کا کہنا تھا کہ استدعا ہے کہ عمران ریاض خان پر سے اس مقدمے کو خارج کیا جائے۔ سپیشل مجسٹریٹ پرویز خان کا کہنا تھا کہ میں ایف آئی اے کا جج ہوں، یہ کیس میری عدالت میں نہیں بنتا۔

عمران ریاض خان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ان کے مؤکل کے اسلحہ کے لائسنس اور بلٹ پروف گاڑی کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔ گزشتہ رات ان کو اسلام آباد ٹول پلازہ پر اٹک پولیس نے گرفتار کر لیا گیا۔ استدعا ہے کہ عمران ریاض پر سے اس مقدمے کو خارج کیا جائے۔

عدالت نے عمران ریاض کیس میں ایف آئی اے کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے کر کیس کو واپس اٹک بھیج دیا۔

اس سے قبل اٹک کی مقامی عدالت نے صحافی عمران ریاض خان کیس کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے انھیں ایف آئی اے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اٹک کی مجسٹریٹ عدالت نے مختصر کارروائی کے بعد فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہے معاملہ متعلقہ فورم پر لے کر جائیں۔

واضح رہے کہ اینکر عمران ریاض کو منگل کی شب ضلع اٹک کی پولیس نے گرفتار کیا تھا جس فوراً بعد ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکر پرسن عمران ریاض خان کو حراست میں لئے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکر پرسن عمران ریاض کو گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ رات کو انہیں رپورٹ ملی تھی کہ عمران ریاض کو پنجاب کے شہر اٹک سے گرفتار کیا گیا ہے، اس لئے یہ معاملہ اس عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا۔ یہ آپ کے مفاد میں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

عمران ریاض کے وکیل نے مزید کہا کہ عمران ریاض نے انہیں فون پر بتایا کہ وہ اسلام آباد ٹال پلازہ پر ہیں، اس طرح ان کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران ریاض کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ فی الحال یہ عدالت اس معاملے پر کوئی آبزرویشن نہیں دے رہی، اگر لاہور ہائی کورٹ کہے کہ اسلام آباد سے گرفتاری ہوئی تو وہ حکم یہاں لے آئے گا۔

PUNJAB POLICE

IMRAN RIAZ KHAN

FIA COURT

Tabool ads will show in this div