اسٹیٹ بینک کے پاس ملک ریاض کے 19 کروڑ پاﺅنڈ کی واپسی کا ریکارڈ نہ ہونے کا انکشاف

رقم کی منتقلی بینک کا رازدانہ معاملہ ہے، نمائندہ اسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک کے پاس برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور چیئرمین بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض کے درمیان معاہدے کے تحت واپس کی جانے والی 19 کروڑ پاﺅنڈ کی رقم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

سماء کے انوسٹی گیشن یونٹ نے “رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017” کے تحت برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور چیئرمین بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض کے درمیان معاہدے کے تحت واپس کی جانے والے 19 کروڑ پاؤنڈ کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو چند سوالات ارسال کیے تھے۔

سوال: کیا مرکزی بینک 20-2019 میں بحریہ ٹاﺅن کے چیئرمین ملک ریاض اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں واپس کی جانے والی 19 کروڑ پاﺅنڈ کی رقم سے متعلق آگاہی رکھتا ہے؟

سوال: کیا حکومت برطانیہ کی طرف سے مذکورہ رقم براہ راست نیشنل بینک آف پاکستان کے اکاﺅنٹ میں منتقل کی گئی تھی، اگر ایسا ہے تو یہ رقم کتنی تھی اور یہ معاملہ کب پیش آیا؟

سوال: مذکورہ 190ملین پاﺅنڈ کی رقم کس اکاﺅنٹ میں منتقل کی اور رکھی گئی اور کس عہدیدار کے حکم سے ایسا کیا گیا؟

سوال: کیا اسٹیٹ بینک سماء کو یہ بتا سکتا ہے کہ کس کے حکم سے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے واپس ہونے والی یہ رقم بحریہ ٹاﺅن کو واپس کی گئی تاکہ بحریہ ٹاﺅن پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے زمین کے مقدمات میں عائد جرمانوں کا توازن برقرار کیا جا سکا؟

**سوال:**کیا مرکزی بینک کی طرف سے غیر قانونی طور پر منتقل ہونے اور معاہدے تحت واپس ہونے والی اس رقم پر ردِعمل کے طور پر کوئی جرمانہ یا ٹیکس عائد کیا؟

سوال: 19 کروڑ پاﺅنڈ کی رقم کس حیثیت کی حامل ہے؟

مرکزی بینک کے نامزد افسر رضا محسن قزلباش نے سماء انوسٹی گیشن یونٹ کے سوالات کے جواب دیئے۔

ان سوالات کے جواب میں رضا محسن قزلباش نے تحریری طور پر سماء ٹی وی انوسٹی گیشن یونٹ کو آگاہ کیا کہ مرکزی بینک کے پاس بحریہ ٹاﺅن اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے معاہدے کے نتیجہ میں واپس کی جانے والی 190ملین پاﺅنڈ کی رقم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے اکاﺅنٹ میں رقم کی منتقلی بینک کا رازدانہ معاملہ ہے جس کے بارے میں کسی کو معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

معاملہ کیا ہے؟

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) ملک ریاض کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے کروڑوں پاؤنڈ برطانیہ لانے کے معاملے کی تفتیش کررہی تھی۔

2019 میں ملک ریاض اوراین سی اے کے درمیان 19 کروڑ پاؤنڈ کا تصفیہ ہوا تھا، یہ رقم پاکستان بھجوائی گئی تھی۔

بعد ازاں نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستانی حکام نے یہ رقم ریاستِ پاکستان کے سرکاری بینک میں منتقل کئے جانے کی تصدیق کی تھی۔

موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بحریہ ٹاؤن کی برطانیہ میں پکڑی گئی 50 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ان سے ایڈجسٹمنٹ کی اور شہزاد اکبر کے ذریعے 5 ارب روپے کمیشن وصول کیا۔

گزشتہ ماہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 3 دسمبر 2019 کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کسی کو کچھ بتائے بغیر لفافے میں بند ایک معاہدے کی منظوری لی گئی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس دستاویز کی منظوری کے بعد بحریہ ٹاؤن کے قرضے کے بدلے اس رقم کو ایڈجسٹ کیا گیا۔

nca

Malik Riaz

Tabool ads will show in this div