رواں سال بلوچستان میں 274 اور سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ، شیری رحمان

14 جون سے اب تک بارشوں سے 77 افراد جاں بحق ہوئے، شیری رحمان

وفاقی وزیربرائے موسمياتى تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ 14 جون سے اب تک مون سون بارشوں میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جو ہمارے لئے سانحہ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ماحولیاتی بحران ہے، پاکستان کے موسمی حالات ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے ہیں، پاکستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، پاکستان میں گلوبل وارمنگ سے نقصانات بھارت اور بنگلا دیش سے زیادہ ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے برفانی جھیلیں پھٹ رہی ہیں، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جھیلیں پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں، ہر سال اس طرح کے 5 یا 6 واقعات ہوتے ہیں، رواں موسم گرما میں برفانی جھیلیں پھٹنے کے 16 واقعات ہوئے۔

شیری رحمان نے کہا کہ ملک میں اس وقت مون سون سیزن چل رہا ہے، حالیہ مون سون بارشیں توقع سے 87 فیصد زیادہ ہیں، پورے پاکستان میں اس وقت زیادہ بارشیں ہورہی ہیں۔

وفاقی وزیر بلوچستان میں اندازے سے 274 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، آزاد کشمیر میں 49 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، آئندہ دنوں میں مون سون کے اثرات پنجاب میں ہوں گے، یہ مون سون میں شدید بارشوں کی شروعات ہے۔

14 جون سے اب تک مون سون بارشوں میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ 39 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، غذر میں فلیش فلڈنگ سے 4 اموات ہوئیں، 77 اموات ہونا ہمارے لیے ایک سانحہ ہے، پی ایم ڈی اے اور این ڈی ایم اے مستقل ایڈوائزری جاری کررہی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے موسمياتى تبدیلی نے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال سےمتعلق آگاہی کی ضرورت ہے ، اس حوالے سے پالیسی لارہے ہیں۔

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div