کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات اس مرحلے پر نہیں پہنچے کہ کوئی رائے قائم کی جائے، وزیر داخلہ

عمران خان کو ايک ايک سوال کا جواب دينا ہوگا، رانا ثنااللہ

وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کا معاملہ ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سب سیاسی جماعتوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مذاکرات سے قبل ڈسکس ہوتا ہے کہ بات چیت کیسے ہو اور کون مذاکرات کرے، ابھی مذاکرات بارے میں کہا جائے کہ کسی بات پر اتفاق ہوچکا ہے یا بات مان لی ہے،ابھی اس جگہ نہیں پہنچے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اجلاس میں عسکری قیادت میں واضح طور پر کہا گیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہوں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھیں گے، جو بات طے کریں گے یادوسری جانب سے کوئی آفر آئے گی اس سے پہلے پارلیمان کی اجازت سے کوئی چیز قبول یا مسترد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل پارلیمان کی نگرانی میں ہورہا ہے،یہ سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں جامع بریفنگ دی گئی، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، آرمی چیف نے بھی تمام پوائنٹس پر وضاحت کی، بریفنگ میں کوئی رائے نہیں بلکہ معلومات دیں گئیں ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ روز کہا کہ ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا دیوار سے لگانا بند نہ کیاگیا تو سب کچھ قوم کوبتاؤں گا، کیا انہیں کوٹ لکھپت یا اڈیالہ میں بند کر دیا گیا، کیا جیل میں ان کے بیرک کا پنکھا بند کیا گیا یا ادویات بند کر دی گئیں، عمران خان یہ سب کچھ اپنے مخالفین کے ساتھ 3 سال تک کرتے رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اراضی اسکینڈل میں اقرار نامہ اور رجسٹری سب موجود ہے، اراضی اسکینڈل میں 5 ارب روپے کا غبن کیا گیا، عمران خان نے 458 کنال اراضی اہلیہ کے نام پر لی، 200 سے زائد کنال فرح کے نام پر لی، پنجاب سے اکٹھی ہونے والی رقم وزیراعلیٰ ہاؤس جاتی تھی یا بنی گالہ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے اب تک توشہ خانہ کي کرپشن کا جواب نہيں ديا، میرٹ پر کارروائی ہو گی اور قانون اپنا راستہ لے گا، ہم نےکسی ايجنسی کو نہيں کہا کہ کچھ نہ کچھ ضرور نکاليں، اگر کچھ نکلا تو قانون اپنا راستہ ضرور لے گا۔

رانا ثںاء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ايک ايک سوال کا جواب دينا ہوگا، انہیں کون سی ديوار سے لگايا جارہا ہے، وہ آرام سے بنی گالا ميں بيٹھے ہيں، ابھی تو صرف سوالات پوچھے جا رہے ہیں، عمران خان کیا پوچھ گچھ پریشان ہو رہے ہیں، اگر وہ سب کچھ بتانا چاہتے ہیں تو اچھا ہے قوم کو بتائیں کہ 2014 کے دھرنے کیوں دیئے تھے، اس کے پیچھے کون تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کيا اقتدار سے باہر رہنا آپ کو ہراساں کرنا لگتا ہے؟ عمران خان کو ڈی چوک پر بیٹھنے نہیں دیا گیا کیا یہ ہراساں کرنا ہے،ابھی تو صرف فرح گوگی سے متعلق سوال ہوا ہے اور اہلیہ کی آڈیو جاری ہوئی ہے، کچھ کہا نہيں گيا، ان لوگوں سے غداری کا سوال کرنا غداری ہے۔

pmln

PTI

RANA SANAULLAH

IMRAN RIAZ KHAN

Tabool ads will show in this div