عمران ریاض کو گرفتاری کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم

کوئی بھی درخواست کسی بھی وقت آئے ہم سننے کے لئے تیار ہیں، چیف جستس اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکر پرسن عمران ریاض کو گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز اٹک سے اینکر پرسن عمران ریاض خان کو حراست میں لئے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

عمران ریاض کے وکیل نے کہا کل رات گئے احکامات جاری کرنے پر ہم آپ کے شکر گزار ہیں ۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کوئی بھی درخواست کسی بھی وقت آئے ہم سننے کے لئے تیار ہیں ۔

دوران سماعت عمران ریاض کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت عالیہ نے ان کے موکل کو گرفتار نہ کرنے کے واضح احکامات دیئے تھے، پولیس نے انہیں گرفتار کرکے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ رات کو انہیں رپورٹ ملی تھی کہ عمران ریاض کو پنجاب کے شہر اٹک سے گرفتار کیا گیا ہے، اس لئے یہ معاملہ اس عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا۔ یہ آپ کے مفاد میں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

عمران ریاض کے وکیل نے مزید کہا کہ عمران ریاض نے انہیں فون پر بتایا کہ وہ اسلام آباد ٹال پلازہ پر ہیں، اس طرح ان کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران ریاض کے وکیل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ فی الحال یہ عدالت اس معاملے پر کوئی آبزرویشن نہیں دے رہی، اگر لاہور ہائی کورٹ کہے کہ اسلام آباد سے گرفتاری ہوئی تو وہ حکم یہاں لے آئیے گا۔

معاملے کا پس منظر

عمران ریاض پر پنجاب میں مختلف مقدمات درج کئے گئے ہیں، انہوں نے چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی۔

ISLAMABAD HIGH COURT

IMRAN RIAZ KHAN

Tabool ads will show in this div