ملک بھر میں تیسرے روز بھی بارش، حادثات میں ہلاکتیں 77 ہوگئیں

رواں ہفتے کے آخر سے مون سون بارشوں میں دوبارہ شدت آنے کی پیش گوئی

ملک بھر میں مون سون کے پہلے اسپیل نے ہر طرف جل تھل ایک کردیا ہے جبکہ بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 77 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا باعث بن رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشیں ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اس وقت مون سون سیزن چل رہا ہے، حالیہ مون سون بارشیں توقع سے 87 فیصد زیادہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 14 جون سے اب تک مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ 39 افراد جاں بحق ہوئے، غذر میں فلیش فلڈنگ سے 4 اموات ہوئیں۔

رواں سال بلوچستان میں 274 اور سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ، شیری رحمان

شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران اتنی بڑی تعداد میں اموات ہونا ہمارے لیے ایک سانحہ ہے، پی ایم ڈی اے اور این ڈی ایم اے مستقل ایڈوائزری جاری کررہی ہیں۔

بلوچستان میں سب سے زیادہ تباہی

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گوادر میں 58 ملی میٹر، پسنی 38، جیوانی 34، تربت 15، زیارت12، قلات اور لسبیلا میں 4 ، کوئٹہ (سمنگلی4 اور شیخ ماندہ میں 3)، ژوب میں 3 جبکہ اورماڑہ اور پنجگور میں 02 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔

بلوچستان کے ساحلی اور وسطی اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

بلوچستان میں بارش سے سب سے زیادہ نقصان کوئٹہ اور کوہلو میں ہوا ہے، کوئٹہ میں بارش کلا سلسلہ تھم گیا ہے جب کہ کوہلو شہر اور گردونواح میں رات گئے سے موسلادھار بارشیں جاری ہیں۔

کوہلو ، تمبو اور کنل کے نشیبی علاقے زیرآب ہیں، کچی رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہوچکی ہیں جب کہ بجلی کی فراہمی بھی تاحال معطل ہے۔

کوہلو میں حالیہ بارشوں سے کپاس،مرچ اور ٹماٹرکی فصلیں متاثر ہوئی ہیں جب کہ پژہ میں سیلابی ریلےکی زد میں آکردرجنوں مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 39 تک پہنچ گئی۔

فرح عظیم نے کہا کہ بلوچستان میں غربت بہت زیادہ ہے، لوگوں میں شعور کی بھی کمی ہے، یہاں تجاوزات کا بھی مسئلہ ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود بارش اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو امدادی سامان مہیا کیا جارہا ہے۔

سندھ

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش چھور میں 66 ملی میٹر ، روہڑی 60، سکھر 42، جیکب آباد 38 اور حیدرآباد میں 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی کے مسرور ایئر بیس پر 17، فیصل بیس پر 12، گلشن حدید اورت ائیرپورٹ پر 7، سعدی ٹاؤن 5، جناح ٹرمینل 4، قائد آباد 3 جب کہ سرجانی ٹاؤن اور یونیورسٹی روڈ میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ میر پور خاص 16، ٹھٹھہ 10، بدین 6، مٹھی اور ٹنڈو جام 4، موہن جو داڑو 3 اور لاڑکانہ میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

عمر کوٹ اور تھرپارکر میں بارش سے پانی کی قلت میں کمی واقع ہوئی ہے، نگرپارکر اور دیگر علاقوں میں ہر جانب سبزے نے سر اٹھالیا ہے جس سے ان کی خوبصورت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔

سندھ کے دیگر شہروں سکھر، شکارپور، لاڑکانہ، خیرپور، کشمور، کندھ کوٹ، میرپور خاص، ٹنڈو الہیار میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف شہروں میں بارش کے باعث بجلی بند کی فراہمی معطل ہوگئی، سکھر شہر تاریکی میں ڈوب گیا، کشمور میں بھی شہری بجلی سے محروم ہوگئے۔

میرپور خاص، ٹنڈوالہیار، شکارپور، لاڑکانہ، خیرپور، کشمور اور کندھ کوٹ میں بارش کے بعد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

خیرپور میں بارش کے باعث کھجور کی فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں میں بارش کا سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جارہی ہے۔

کراچی کی صورت حال

کراچی میں گزشتہ 3 روز سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، شہر کے بیشتر کاروباری مراکز اور بازار بند ہیں۔

کراچی کی بلدیاتی انتظامیہ مختلف علاقوں میں جمع ہونے والے پانی کی نکاسی میں مصروف ہے جب کہ نالوں کی صفائیی بھی جاری ہے۔

شہر کے علاقوں میں گزشتہ روز سے بجلی کی فراہمی بھی بحال نہیں ہوسکی۔

پنجاب

محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی کے علاقےچکلالہ میں 86 اور شمس آباد میں 56 ملیک میٹر، اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ میں 75، سید پور میں 59، ائیرپورٹ 56، اور بوکرہ میں 38 ملی میٹر، چکوال میں 63، جوہرا آباد 35، بہاولپور میں 28، لاہور کے علاقوں پنجاب یونیورسٹی میں 19، جوہر ٹاون اور ٹاون شپ 14، گلشن راوی 10، اقبال ٹاون 03، مصری شاہ 02 جب کہ اپر مال، گلبرگ، لکشمی اور ایئرپورٹ میں ایک ملی میٹر بارش ہوئی۔

اسی طرح مری میں 22، گجرات میں 5، اوکاڑہ 3، سیالکوٹ2 اور منڈی بہاؤالدین میں ایک ملی میٹر بارش ہوئی۔

ڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان، فورٹ منرو میں بھی موسلادھار بارش ہوئی، پانی گھروں، ہوٹلوں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔

بارش کے باعث نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے قومی شاہراہ بند ہوگئی، پنجاب کا راکھی گاج کے مقام پر بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کیلئے این ایچ اے کی ہیوی مشینری طلب کرلی گئی۔

کشمیر کی صورت حال

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش کوٹلی میں 75 ملی میٹر، راولاکوٹ 29، گڑھی دوپٹہ 06 اور مظفرآباد (سٹی 06، ایئرپورٹ 03 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

خیبر پختونخوا

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے دیر بالا میں 14 ملی میٹر ، کاکول 10، بالاکوٹ اور پارہ چنار 8، سیدو شریف 6، پٹن 5، بنوں 2 اور کالام میں ایک ملی میٹر بارش ہوئی۔

مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا حالیہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔ اس دوران اسلام آباد، بلوچستان کے ساحلی اور جنوبی اضلاع، سندھ میں کراچی، ٹھٹہ، میرو پور خاص اور لاہور سمیت وسطی اور جنوبی پنجاب میں مزید بارشیں ہوسکتی ہیں۔

ماہرین موسمیات نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کے آخر سے مون سون ہواؤں کے سلسلے میں دوبارہ شدت آنے کی پیش گوئی کی ہے۔

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div