حج کیسے ادا کیا جاتا ہے؟

ذی الحجہ کی 8 تاریخ سے حج کے ارکان شروع ہو جاتے ہیں

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور ہر صاحب استطاعت بالغ مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، یہ عبادت ہر سال ذی الحجہ کی 8 سے 12 تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ادا کی جاتی ہے، ذی الحجہ کی 8 تاریخ سے حج کے ارکان شروع ہوجاتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کی مکہ سے ہجرت کے نویں سال مسلمانوں پر حج فرض ہوا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنہ 10ھ میں واحد حج کیا جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔

ہر مسلمان آزاد عاقل و بالغ جو تندرست ہو اور جس کے پاس ضروریات زندگی پورا کرلینے، نیز اہل وعیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو جس سے حج کے اخراجات پورے ہوسکتے ہوں تو ایسے شخص پر حج کرنا فرض ہے، مکان کو بیچ کر حج کرنا جائز نہیں ہے۔

حج کے فرائض

حج کے چار فرائض ہیں، پہلا حج کی نیت کرکے احرام باندھنا، دوسرا وقوف عرفہ یعنی میدان عرفات میں قیام کرنا، تیسرا طواف زیارت یعنی خانہ کعبہ کے 7 چکر لگانا اور چوتھا سعی یعنی صفا اور مروہ کے درمیان 7 بار چکر لگانا شامل ہے۔

حج کے فرائض مىں سے اگر کوئى فرض چھوٹ جائے تو حج ادا نہىں ہوگا لیکن اگر واجبات مىں سے کچھ چھوٹ جائے تو حج ادا ہوجائے گا مگر اس کی جزا لازم ہوگى۔

حج کے واجبات

ان چاروں کے علاوہ بقیہ ارکان یا تو واجبات میں ہیں یا پھر ان کا شمار سنت میں کیا جاتا ہے۔

ان میں مىقات سے احرام کے بغىر نہ گزرنا، عرفہ کے دن غروب آفتاب تک مىدانِ عرفات مىں رہنا، مزدلفہ مىں وقوف کرنا، جمرات کو کنکرىاں مارنا، قربانى کرنا (حاجیوں پر واجب نہىں، مستحب ہے)، سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا، سعى کرنا، طواف وداع کرنا شامل ہیں۔

حجاج کرام 8 ذی الحجہ كو مكہ يا حرم كے قريب سے احرام باندھتے ہیں اور احرام باندھنے کے بعد تلبیہہ یعنی (لبیک اللھم لبیک۔ مکمل) پڑھنے کی شروعات کرتے ہیں۔

حج کا پہلا دن

حج کا پہلا دن 8 ذی الحجہ سے شروع ہوتا ہے اور اس دن ظہر سے لے کر 9 ذی الحجہ کی فجر تک پانچوں نمازیں منیٰ میں ادا کرنی ہوتی ہیں، بعد ازاں عرفات کا رخ کیا جاتا ہے۔

حج کا دوسرا دن

نو تاریخ حج کا دوسرا اور اہم ترین دن ہے جو یوم عرفہ کہلاتا ہے، سورج طلوع ہونے كے بعد حجاج کرام عرفات كى طرف روانہ ہوتے ہیں، وہاں ظہر اور عصر كى نمازيں ادا كرتے ہیں، اس دن عرفات کے میدان میں ٹھہرنے کو وقوف عرفات کہا جاتا ہے اور اصل حج کا دن یہی ہوتا ہے، یعنی اگر کوئی شخص وقوف عرفہ کے علاوہ تمام مناسک ادا کر لے تب بھی اس کا حج ادا نہیں ہوگا، بعد ازاں غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور مغرب و عشاء كى نمازيں مزدلفہ پہنچ كر ایک ساتھ ادا كرتے ہیں۔ حجاج مزدلفہ میں رات گزارتے اور یہاں سے رمی جمرات کیلئے کنکریاں یکجا ہیں۔

حج کا تیسرا دن

دسویں ذی الحجہ، حج کا تیسرا دن ہے، تیسرے روز یہاں سب سے پہلے بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں بعد ازاں قربانی اور بال منڈوائے جاتے ہیں۔ طواف زیارت، زمزم پینا، صفا مروہ کی سعی بھی اسی روز کی جاتی ہے۔

حج کا چوتھا اور پانچواں دن

حج کے چوتھے اور پانچویں روز یعنی 11ویں اور 12 ویں ذی الحجہ کو حجاج کرام منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور دوبارہ شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔ بعد ازاں طواف وداع یعنی آخری بار بھی کعبے کا طواف کرتے ہیں۔

اگر حج کے تمام ارکان اخلاص کے ساتھ ادا کرلئے جائیں تو حج کرنے والے کیلئے بہت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کیوںکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقبول حج کرنے والا گناہوں سے ایسے پاک ہوگیا جیسے ماں کے پیٹ سے معصوم پیدا ہوا تھا۔

SAUDIA ARABIA

HAJJ 2022

Tabool ads will show in this div