عازمین کو احرام باندھنے کے بعد کن چیزوں سے بچنا چاہئے؟

حجاج کیلئے بعض حلال کام بھی حرام ہوجاتے ہیں

احرام کے لغوی معنی حرام کرنا ہیں اور اس کو احرام اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ احرام کی حالت میں بعض حلال کام بھی حرام ہو جاتے ہیں، حج کے اعمال احرام سے شروع ہوتے ہیں اور احرام باندھنے کی جگہ میقات ہے۔

احرام کیا ہے؟

حج یا عمرہ کرنے کیلئے ایک مخصوص لباس پہنا جاتا ہے جسے احرام کہتے ہیں اس میں ایک کپڑے کو کمر کے گرد باندھتے ہیں جسے “ازار” کہا جاتا ہے جبکہ ایک اور کپڑے کو اپنے کاندھے پر ڈالا جاتا ہے جسے رداء کہا جاتا ہے، حج اور عمرہ کی غرض سے حجاز مقدس آنے والے فرزندان توحید کے احرام باندھنے کیلئے اسلامی شریعت میں 5 مقامات مقرر کئے گئے جنہیں میقات کہا جاتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا، تمہیں تہہ بند، چادر اور جوتوں میں احرام باندھنا چاہئے، اگر جوتے نہ ہوں تو موزے پہن لو لیکن انہیں ٹخنوں سے نیچے کاٹ لو۔ مسلم شریف میں حدیث مذکور ہے حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہہ بند نہ ملے وہ پاجامہ پہن لے۔

احرام کن مقامات پر باندھا جاتا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرے کیلئے مختلف ممالک اور شہروں سے آنے والوں کیلئے مختلف مقامات کو میقات مقرر فرمایا ہے۔

میقات کل پانچ ہیں جنہیں ذوالحلیفہ، قرن المنازل، یلملم، الجحفہ اور ذاقت عرق کے ناموں سے جانا جاتا ہے، کچھ ہنگامی میقات ان کے علاوہ ہیں، کسی بھی معتمر کیلئے ان مقامات میں سے کسی ایک سے احرام کے بغیر مسجد حرام کی طرف سفر کرنے کی اجازت نہیں، اگر کوئی دانستہ طور پر میقات سے احرام باندھے بغیر گزر گیا تو اسے واپس آنا ہوگا یا فدیہ کے طور پر قربانی کرنا ہوگی۔

حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے آفاقی یعنی غیر مکی کیلئے احرام باندھنے کی جگہ (میقات) اس طرح متعین فرمائیں، اہل مدینہ کیلئے ذوالحلیفہ، شام والوں کیلئے جحفہ، نجد والوں کیلئے قرن منازل اور یمن والوں کیلئے یلملم (یہ سب مذکورہ علاقوں کے لوگوں کیلئے احرام باندھنے کی جگہ ہیں اور ان مقامات سے گزرنے والے لوگوں کیلئے بھی یہی میقات ہیں جو ان علاقوں کے علاوہ ہوں مثلاً پاکستان اور بھارت سے آنے والے جب یمن کے راستے پر پہنچیں تو یلملم سے احرام باندھیں۔

اسی طرح دوسرے ملکوں کے لوگوں کیلئے بھی یہی ہے کہ ان کے راستے میں جو میقات آئے وہیں سے احرام باندھیں اور یہ (احرام اور احرام باندھنے کی جگہیں) ان لوگوں کیلئے ہیں جو حج اور عمرہ کا ارادہ کریں۔

مقامی شہریوں بالخصوص نجد شہر اور مکہ مکرمہ کے عازمین کیلئے ان کے گھر ہی میقات کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ عمرہ یا حج کیلئے اپنے گھروں سے احرام باندھ کر نکلتے ہیں، ان شہروں میں رہنے والے غیرمقامی افراد ‘التنعیم’ علاقے میں قائم مسجد السیدہ عائشہ سے احرام باندھتے ہیں۔ ماہ صیام میں یہاں پر بھی غیرمعمولی ہجوم رہتا ہے۔

احرام باندھنے کے ساتھ ہی با آواز بلند تلبیہہ پڑھنا چاہئے جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہےـ ‘‘حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، بے شک ہر قسم کی تعریف اور نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہت بھی تیری ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں’’۔

تلبیہہ پڑھنے کے بعد انسان کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور جنت کیلئے دعا کرنی چاہئے اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہئے، اس لئے کہ یہ عمل مسنون ہے، با آواز بلند تلبیہہ پڑھنے سے حج و عمرہ کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔

احرام پہننے کے بعد کن چیزوں سے بچنا ضروری ہے؟

احرام پہننے کے بعد بعض حلال کام بھی حرام ہوجاتے ہیں جن سے بچنا ضروری ہوتا ہے، ان کاموں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ خوشبو استعمال کرنا

2۔ ناخن کاٹنا

3۔ بال کاٹنا

4۔ چہرہ ڈھانکنا

5۔ مردوں کا سلے ہوئے کپڑے پہننا

6۔ مردوں کا سر کو ڈھانکنا

7۔ عورتوں کو چہرے پر کپڑا لگانا

8۔ مردوں کو ٹخنے ڈھانپنا

9۔ شکار کرنا

10۔ میاں بیوی کا ازدواجی تعلقات قائم کرنا

SAUDIA ARABIA

HAJJ 2022

Tabool ads will show in this div