12روز بعد ڈالرکی قدر میں پھر اضافہ

روپے کی قدر پر دباوٗ بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟

انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں منگل کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 2.38روپے بڑھ گئی جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 2.50روپے کے اضافے سے 204.50روپے سے بڑھ کر 207 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ ڈالر کی قدر کی اونچی اڑان کا سلسلہ جاری تھا جس کے نتیجے میں 22جون کو ڈالر 211 روپے کی سطح سے تجاوز کرگیا تھا لیکن بعد ازاں چین سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہونے اور آئی ایم ایف سے قرض پروگرام بحالی کے امکانات کے پیش نظر ڈالر کا روپے پر دباوٗ کم ہوگیا تھا لیکن تقریباً 12روز بعد ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ پھر لوٹ آیا۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق پیر کو وفاقی ادارہ شماریات کے جاری اعداد و شمار زیادہ حوصلہ افزا نہیں حکومت کی جانب سے درآمدات کا بوجھ کم کرنے کے اقدامات کے باجود تجارتی خسارہ 48 ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی اقدامات کے باجود آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت میں تاخیر ہورہی ہے جب کہ مزید تاخیر کی افواہیں بھی گردش کررہی ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی طلب پھر بڑھ گئی ہے۔

فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق منگل کو ڈالر کی قدر بڑھنے کی ایک وجہ تو آئی ایم ایف سے قرض پروگرام میں تاخیر کی افواہوں ہیں اس کے علاوہ عید تعطیلات کے پیش نظر درآمد کنندگان کی جانب سے درآمدی لیٹر آف کریڈٹ کھلوانے کے لئے ڈالر کی خریداری کی گئی جس کا اثر ڈالر کی قدر بڑھنے کی صورت میں سامنے آیاہے۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر بڑھنا عارضی ہے آئی ایم ایف سے واضح اعلان آنے پر صورتحال بدل جائے گی اور ڈالر کی قدر میں کمی آئے گی۔

dollar

Dollar rates

Tabool ads will show in this div