جام کمال کے اثاثوں میں 3 برس کے دوران 308 فیصد اضافہ

2018 میں جام کمال اور اہلیہ کے اثاثوں کی مالیت 37 کروڑ روپے سے زائد تھی جب کہ 2020 میں ایک ارب 30 کروڑ روپے ہوگئی

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے اثاثوں میں 3 برسوں کے دوران 308 فیصد حیران کن اضافہ ہوا ہے۔

سماء انویسٹی گیشن یونٹ نے جام کمال اور ان کی اہلیہ کے 2018 سے 2020 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 2018 میں جام کمال اور ان کی اہلیہ 37 کروڑ 10 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک تھے جب کہ ان پر 4 کروڑ 63 لاکھ روپے کا قرض بھی واجب الادا تھا۔

2019 میں ان کے مشترکہ اثاثوں کی مالیت ایک ارب 10 کروڑ روپے تک جاپہنچی جب کہ قرض بھی گھٹ کر 2 کروڑ روپے رہ گیا۔

اسی طرح 2020 میں جام کمال اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی کل مالیت ایک ارب 30 کروڑ روپے تک جاپہنچی جب کہ قرض مزید گھٹ کر صرف 25 لاکھ روپے رہ گیا۔

جام کمال کا تعلق بلوچستان کے سیاسی خاندان سے ہے، ان کے والد جام یوسف وزیر اعلیٰ بلوچستان رہ چکے ہیں، ان کے دادا جام غلام قادر خان بھی بلوچستان کے دو مرتبہ وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔

جام کمال 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اورانہیں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

جام کمال نے 2018 میں وزارت سے استعفیٰ دے کر اس وقت تشکیل پانے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سنبھال لی تھی۔

جام کمال 2018 کے عام انتخابات میں اپنے آبائی علاقے لسبیلہ سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبے کے 16ویں وزیر اعلی بنے۔

بلوچستان کی سیاسی روایات کے مطابق جام کمال نے مختلف جماعتوں کو شامل کرکے حکومت قائم کی، اس حکومت میں بی اے پی کے علاوہ پی ٹی آئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، اے این پی اور جموہری وطن پارٹی شامل تھی۔

20 اکتوبر 2021 کو جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، جسے ان کی جماعت کے ارکان کی بھی حمایت حاصل تھی۔ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے ہی جام کمال نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

Jam Kamal Khan

Tabool ads will show in this div