امریکا: پولیس کے ہاتھوں سیام فام کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پولیس نے ایک سیاہ فام شخص کے تعاقب کی ویڈیو جاری کر دی ہے

امریکی ریاست اوہایو میں چند روز قبل پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے سیاہ فام شہری کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

پولیس نے ایک سیاہ فام شخص کے تعاقب کی ویڈیو جاری کر دی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیچھا کرنے والے اہلکاروں نے انھیں 60 گولیاں ماریں۔

پولیس کا خیال ہے کہ 25 برس کے جیلینڈ واکر نے 27 جون کو رات کے وقت پہلے پولیس اہلکاروں پر گولی چلائی تھی جس کے بعد پولیس نے اپنے دفاع میں انھیں گولیاں ماریں۔

امریکی ریاست اوہائیو میں حکام نے اتوار کے روز جو ویڈیوز جاری کی ہیں، اس میں دکھایا گیا ہے کہ اس فائرنگ کے واقعے میں 8 پولیس اہلکار ملوث ہیں۔

جیلینڈ جس وقت اپنی کار سے نکل کر بھاگے تو وہ غیر مسلح تھے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان کی کار سے ایک پستول برآمد کیا ہے۔

ویڈیو جاری ہونے کے بعد مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے اکرون میں مارچ شروع کیا اور شہر کے مرکز میں محکمہ انصاف کے سامنے جمع ہوئے۔

شہری حقوق کی تنظیم ‘نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپلز’ کے صدر ڈیرک جانسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واکر کی موت بہت قریب سے فائرنگ کے ذریعے کیا گیا ایک قتل ہے۔

شہر میں مظاہروں کے بعد ایکرن کے میئر ڈینیئل ہاریگن نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

اتوار کو اس واقعہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد انھوں نے کہا کہ ’ویڈیو بہت تکلیف دہ ہے، اسے دیکھنا بہت مشکل ہے۔

اوہایو کے اٹارنی جنرل ڈیو یوسٹ نے اوہایو بیورو آف کریمینل اِنویسٹی گیشن سے شفاف اور ماہرانہ تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایکرن پولیس الگ سے اس بات کی تفتیش کر رہی کہ کہیں اہکاروں نے ڈیپارٹمنٹ کے ضابطوں یا پالیسیوں کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔

USA

Tabool ads will show in this div