گرمی اور بارشیں، ماہرین نے شہریوں کو ڈینگی سے خبردار کردیا

کراچی سمیت سندھ بھر میں 875 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں

طبی ماہرین نے شہریوں اور اداروں کو ڈینگی وائرس سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارشوں کے دوران کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کہیں بھی پانی جمع نہ ہونے دیں، فوری طور پر پانی کی نکاسی کے انتظامات کریں، بارش کے نتیجے میں جمع ہونیوالا پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور اگست سے نومبر تک ڈینگی کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اب تک سندھ بھر میں ڈینگی وائرس کے 875 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے 636 کیسز کراچی سے ہیں۔

بون میرو ایکسپرٹ اور ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کی بارشیں شروع ہوگئی ہیں، بارشوں کے نتیجے میں فوری طور پر نکاسی کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ پانی جمع ہوجاتا ہے جو ڈینگی مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور اس میں مچھر اپنے لاروا یعنی انڈے دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کا عملہ بروقت بارش کے پانی کی نکاسی کے انتظامات کرے تو ہم ڈینگی جیسی بیماری سے بچ سکتے ہیں، فوری طور پر پانی خشک نہ ہونے کی وجہ سے ڈینگی مچھر اپنے انڈے دیتا ہے اور لاروا کی افزائش کی وجہ سے مچھروں کی بہتات ہوجاتی ہے، اسی لئے اگست سے نومبر سے ڈینگی وائرس کے کیسز میں شدت آجاتی ہے اور اموات بھی رپورٹ ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ مون سون سیزن شروع ہونے سے قبل اور سیزن شروع ہونے کے بعد حکومت سندھ اور کے ایم سی کے اداروں کو مچھر مار اسپرے کرنا چاہیے۔

ڈینگی وائرس کیا ہے؟

ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری کا کہنا تھا کہ ڈینگی کو کیلیپر لیکیج سینڈروم کہا جاتا ہے، بخار کے چوتھے، پانچویں اور چھٹے دن نسوں کا پانی نسوں سے نکل کر جسم کے ٹشوز میں جمع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے خون کی شریانوں میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہوجاتا ہے جسے ڈینگی شاک سینڈروم کہتے ہیں، اس کے نتیجے میں خون کی رسائی دل اور دماغ کو نہیں پہنچ پاتی اور ملٹی آرگن فیلیئر کا خدشہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں متاثرہ مریض کو فوری طور پر پر ڈرپس لگاکر پانی کی کمی پوری کی جاتی ہے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید جانیے: لاہور: ڈینگی لاروا کی افزائش سے متعلق انتظامی رپورٹ میں اہم انکشافات

انہوں نے بتایا کہ ڈینگی ہیمریجک سینڈروم میں پلیٹی لیٹس کم ہونے کی صورت میں جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے، بظاہر جلد پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں، دانتوں اور مسوڑوں سے خون آتا ہے اور یہی خون دماغ یا جسم کے دوسرے حصوں میں بہنے لگے تو زندگی کو خطرہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں متاثرہ مریض کو فوری طور پر پلیٹی لیٹس لگائے جاتے ہیں۔

وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ ڈینگی سے بچاؤ کیلئے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، اس لئے شہری اپنے تحفظ کیلئے موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں، چاہے گھر، دفتر سے باہر یا چار دیواری کے اندر ہوں، گھر سے نکلتے وقت پوری آستین والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنیں، گھر میں اگر اے سی ہو تو اسے چلائیں، دروازے بند رکھیں، کھڑکیوں میں جالی لگاکر مچھروں کو گھر میں آنے سے روکیں، اے سی نہیں تو مچھروں سے بچاؤ کے نیٹ استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو چاہئے کہ وہ گھروں میں بھی پانی جمع نہ ہونے دیں اور گملوں میں پانی ڈالتے وقت بھی کوشش کریں کہ پانی جمع نہ ہو کیونکہ یہی پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے، پنکچر شاپ والوں کو بھی چاہئے کہ وہ ٹائروں میں پانی جمع نہ رکھیں، دیکھا یہی گیا ہے کہ ان ٹائروں میں ہفتوں بلکہ مہینوں پانی جمع رہتا ہے اور یہ جمع شدہ پانی مچھروں کی افزائش کیلئے موزوں ترین جگہ ہوتی ہے۔

پاکستان

dengue

HEALTH

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div