ملک کے چاروں صوبوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری

حادثات میں 2 خواتین جاں بحق، بجلی کی عدم فراہمی سے شہری پریشانی

سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش سے موسم دلکش ہوگیا، سندھ کے گورکھ ہل اسٹیشن کا حسُن مزید نکھر گیا، تھرپارکر میں بھی ابر رحمت برسی، اٹک اور صوابی میں بھی بارش ہوئی تاہم مختلف شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہریوں کو پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ملک کے حصوں میں مون سون کے پہلے اسپیل میں کہیں موسلا دھار اور کہیں ہلکی بارش ہوئی، سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سندھ کے مری گورکھ ہل اسٹيشن پر جم کر بارش ہوئی ہر طرف ہريالی ہی ہریالی ہے۔ دادو کی تحصيل ميہڑ ميں بارش کے بعد پانی جمع ہوگيا، سڑکيں پانی ميں ڈوب گئيں۔ سکھر میں بھی بادلوں نے زور دکھايا۔

رپورٹ کے مطابق شکارپور اور خیرپور کے نشیبی علاقوں ميں پانی بھر گيا۔ نکاسی آب کے اقدامات نہ ہونے سے شہدادکوٹ ميں مرکزی شاہراہوں اور گلیوں میں دو دو فٹ پانی جمع ہوگيا۔

جیکب آباد کندھ کوٹ اور شہداد کوٹ میں بادل برستے ہی بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جس کے باعث شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

پنجاب میں اٹک اور نارووال ميں تيز ہواؤں کے ساتھ بارش سے موسم خوشگوار ہوگيا۔ خیبرپختونخوا کے علاقے صوابی ميں بارش کے بعد شیرشاہ سوری روڈ تالاب کا منظر پيش کرنے لگا۔

کوہلو کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں بارش کے بعد دیواریں گرنے سے 2 خواتین جاں بحق ہوگئیں۔

اپر چترال ميں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، لاسپور کے مقام پر پل سيلاب ميں بہہ گيا، شندور ميلے سے واپس آنے والے سياح پھنس گئے، ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، راستہ بند ہونے کے باعث سیاحوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔

کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ میں بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے شہری پریشان ہیں جبکہ گڈاپ میں موسلادھار بارش کے بعد لٹھ ڈیم بھرگیا، جس کے باعث گڈاپ ندی کا پانی سپر ہائی وے کی طرف بڑھ رہا ہے ہے۔ ماہرین کے مطابق مزید بارش ہوئی تو فقیرا گوٹھ اور سعدی ٹاؤن بھی زیر آب آسکتے ہیں۔

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div