بلوچستان میں بارشیں، حادثات میں اموات 11 ہوگئیں، 20 سے زائد زخمی

ایک ہی خاندان کے 6 افراد بھی مرنیوالوں میں شامل

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی پہلی بارش نے تباہی مچادی، مختلف علاقوں میں دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 11 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے 2 افراد کی تلاش جاری ہے۔

بلوچستان میں مون سون کی بارشیں تباہ کن ثابت ہوئیں، موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، سریاب مل کے علاقے میں دیواریں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ کوئٹہ کے علاقے خلجی کالونی میں کرنٹ لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے چاروں صوبوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال میں ایک شخص کی لاش ملی ہے، مچھ کے شتری نالہ میں کوئلہ کان میں کام کرنیوالے 5 مزدور بہہ گئے، 2 کو بچا لیا گیا جبک 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، ایک کان کن تاحال لاپتہ ہے۔

کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس کے علاقے میں دو بچیاں سیلابی پانی میں بہہ گئیں، ایک کو بچا لیا گیا، دوسری کی تلاش جاری ہے۔

پی ڈی ایم اے کی غوطہ خور ٹیم نے خروٹ آباد کے علاقے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی بچی کی لاش برآمد کرلی۔

بارش کے دوران کوئٹہ میں بجلی کے 95 فیڈر ٹرپ کرگئے، مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا، حکومت نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بادل برسے تو شہر تالاب میں تبدیل ہو گیا، نکاسی آب کے ابتر نظام کے باعث سیلابی ریلہ گھروں میں داخل ہوگیا۔

پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے محکمہ ہائی الرٹ ہے، تمام موجودہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ریلیف آپریشن جاری ہے، ملازمین اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں ہیں، متاثرہ افراد کی مدد کیلئے کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران خضدار، قلات، لسبیلہ، پنجگور، آواران، تربت، ژوب، بارکھان سمیت ساحلی پٹی میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

ریکارڈ کے مطابق اب تک لسیبیلہ میں 35، کوئٹہ میں 30 اور پنجگور میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

کوئٹہ

بلوچستان

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div