بزدار حکومت نے پٹواری نظام کو ختم کرنے کے بجائے 8000 نئی بھرتیاں کردیں

نئی بھرتیوں کے لئے کروڑوں روپے کی مبینہ رشوت لی گئی

بزدار حکومت نے پٹواری نظام کو ختم کرنے کے بجائے 8000 نئی بھرتیاں کیں اور ان بھرتیوں کے لئے کروڑوں روپوں کی مبینہ رشوت بھی لی۔

پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کے صوبے کو ترقی سے روکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پٹواری نظام کی سخت مخالفت کرنے والی جماعت تحریک انصاف کی بزدار حکومت جاتے جاتے پٹواری نظام کو پھر زندہ کرگئی۔

سابق وزیراعلی شہباز شریف کے دور میں پٹواری نظام کے خاتمے پر 19 ارب روپے خرچ کیے گئے، تاہم پی ٹی آئی حکومت نے پٹواری نظام کو بحال کردیا، اور 4 سال تک شہری علاقوں کا لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹل ہونے سے روکتی رہی۔

سماء کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق بزدار سرکار جاتے جاتے پنجاب میں دم توڑتے پٹواری نظام کو بھی بحال کرگئی، اور اس کے لئے 8 ہزار نئے پٹواریوں کی بھرتیاں کی گئی، جس کے عوض کروڑوں روپے کی مبینہ رشوت لی گئی۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پٹواریوں کی بھرتیوں کے لئے لی گئی رشوت کی کڑیاں بورڈ آف ریونیو پنجاب سے بنی گالہ تک ملتی ہیں، اور اس میں فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کا نام بھی زیر گردش ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سرکار نے 30 ہزار 890 اسسٹنٹ پٹواری بھرتی کرنے کا منصوبہ بھی تیار کررکھا تھا، اور حکومت ختم ہونے سے چند ہفتے پہلے بابر حیات تارڑ نے ہر پٹوار سرکل میں صدیوں پرانے نظام کی رکھوالی کے لئے اسسٹنٹ پٹواری بٹھانے کا فیصلہ کرلیا تھا، اور اس کی منظوری بھی ہوچکی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سانحہ مری میں 22 افراد کی ہلاکت پر معطل ڈپٹی کمشنر کو ڈی جی لینڈ ریکارڈ لگایا گیا تھا، ڈی جی لینڈ ریکارڈ محمد علی سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل اسسٹنٹ بھی رہ چکے تھے، شہری علاقوں کیلئے 25 ارب کا منصوبہ سابق حکومت کے وفاداروں کے سپرد کیا گیا۔

USMAN BUZDAR

Tabool ads will show in this div