عمران خان نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

اوورسیز پاکستانیوں سے ووٹ کی سہولت واپس لینےکا اقدام کالعدم قرار دینے کی استدعا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، الیکشن کمیشن اور نادرا کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں عمران خان کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت دینے کا حکم دیا جائے، نادرا کو اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کا میکنزم بنانے کا حکم دیا جائے اور الیکشن کمیشن کو کہا جائے کہ وہ نادرا کو فنڈز فراہم کرے ۔

پس منظر

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تھی جس کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا اور آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کرنا تھا۔

موجودہ حکومت نے 26 مارچ کو قومی اسمبلی سے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کرایا تھا، جس کے تحت پی ٹی آئی حکومت میں کی گئی ترامیم ختم کر دی گئیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد بل کا مسودہ صدر مملکت کو دستخط کے لیے بھجوایا گیا تھا لیکن صدر مملکت نے بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرکے واپس بھجوادیا تھا۔

9 جون کو پارلیم،نٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس بل کو دوبارہ منظور کرایا گیا ، جس کے بعد اس بل کو قانون کا حصہ بنانے کے لئے صدر مملکت کے دستخط کی ضرورت نہیں رہی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے نیب آرڈیننش سمیت الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کو بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

PTI

ELECTION ACT AMENDMENT BILL 2022

Tabool ads will show in this div