افغانستان: مدرسے پر دستی بم حملے میں 8 افراد زخمی

مشرقی صوبے ننگر ہار میں نامعلوم افراد دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں مدرسے پردستی بم حملے میں 8 افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس ترجمان عبدالبصیر نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ ضلع رودات میں ہفتہ کو علی الصبح پیش آیا جس میں مدرسہ عثمان زوالنورین کو نشانہ بنایا گیا، نامعلوم افراد دستی بم پھینک فرار ہوگئے، زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ننگر ہار میں گزشتہ ہفتہ بھی ایک بم دھماکے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے، نامعلوم افرااد نے اس حملے میں محکمہ صحت کے ضلعی سربراہ کو ٹارگٹ کیا تھا۔

مدرسے پر ہونے والا حملہ کابل میں تین روز سے جاری طالبان کے علماء کے اجلاس کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔ اس کانفرنس کا آغاز جمعرات کو ہوا تھا جس سے جمعہ کو طالبان سربراہ ملا بیبت اللہ نے بھی خطاب کیا تھا۔

اس کانفرنس میں ملک بھر سے تین ہزار علماء نے شرکت کی تھی جنہوں نے ملک میں حکومتی، معاشی اور تعلیمی نظام سے متعلق اہم امور پر مشاورت کی۔

اس اجلاس کے بعد افغانستان میں ساتویں سے بارہویں جماعت تک لڑکیوں کے اسکول کھولنے، حکومتی ڈھانچے، قومی پرچم اور ترانے کے حوالے سے اعلانات بھی متوقع ہیں۔

افغانستان

TALIBAN

grenade blast

Tabool ads will show in this div