پاک سوزوکی کمپنی نے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

یکم جولائی سے بکنگ بھی بند کردی گئی

معروف آٹو کمپنی پاک سوزوکی نے یکم جولائی سے نئی موٹر سائیکلوں کی بکنگ بند کردی جبکہ 2 جولائی سے قیمتیں بھی بڑھادیں۔

کمپنی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلوں کی بکنگ بند کرنے کا فیصلہ موٹر سائیکلوں کی سی کے ڈی امپورٹ کی ایل سیز نہ کھلنے کے باعث کیا گیا، جیسے ہی سی کے ڈی کی امپورٹس بحال ہوجائے گی بکنگ دوبارہ شروع کردی جائے گی۔

واضح رہے کہ موٹر سائیکل یا کاریں دو حالتوں یعنی (سی کے ڈی) اور سی بی یوحالت میں باہر سے درآمد کی جاتی ہیں۔ سی کے ڈی میں موٹر سائیکلوں اور کاروں کے مختلف پارٹس ہوتے ہیں جس کو مقامی طور پر جوڑا جاتا ہے جبکہ سی بی یو میں مکمل جڑی شکل میں گاڑیاں امپورٹ کی جاتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے سی بی یو کی امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن ایس کے ڈی کی اجازت ہے تاہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں درآمدات کو محدود رکھنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایل سیز کھلوانے کی اجازت دینے سے گریز کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے سوزوکی ضرورت کے مطابق امپورٹ نہ کرسکا اور پروڈکشن سے آرڈرز بڑھنے کے پیش نظر بکنگ کردی گئی ہے۔

کمپنی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوزوکی کا موٹر سائیکل انڈسٹری میں حصہ بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن ہماری اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکام سے بات چیت چل رہی ہے، اُمید ہے سی کے ڈی کی امپورٹ جلد بحال ہوجائے گی۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق دیگر موٹر سائیکل کمپنیوں کو بھی امپورٹ میں مسائل کا سامنا ہے، حکومت نے صورتحال کو نارمل کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے تو دیگر کمپنیاں بھی بکنگ بند کرسکتی ہیں۔

آٹو انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل سیز کھلوانے میں مشکلات تو اپنی جگہ لیکن تھائی لینڈ میں سی کے ڈی مہنگے ہونے اور کم دستیابی کی وجہ سے بھی کمپنیاں کم امپورٹ کررہی ہیں، دوسری جانب لاگت بڑھنے کو جواز بناکر کمپنیاں قیمتیں بھی مسلسل بڑھا رہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاک سوزوکی نے یکم جولائی سے نئی موٹر سائیکلوں کی بکنگ بند کردی ہے لیکن ساتھ ہی 2 جولائی سے قیمتوں میں اضافہ بھی کردیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری نئے نرخ نامے کے مطابق جی ڈی 10 ایس کی قیمت 7 ہزار روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 19 ہزار روپے اور جی ایس 150 کی قیمت 7 ہزار روپے کے اضافے سے 2 لاکھ 39ہ زار روپے ہوگئی ہے۔

اسی طرح جی ایس 150 ایس ای کی قیمت بھی 7 ہزار روپے کے اضافے سے بڑھا کر 2 لاکھ 56 ہزار روپے اور جی آر 150 کی قیمت 10 ہزار روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 49 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یکم جولائی سے ہونڈا اور یاماہا کمپنی بھی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرچکی ہے۔ موٹر سائیکل کمپنیاں مارچ کے بعد سے اب تک مسلسل پانچویں ماہ قیمتوں میں اضافہ کرچکی ہیں۔

پاکستان

HONDA MOTOR CYCLE

Tabool ads will show in this div