بھارتی سپریم کورٹ نے نوپورشرما کو ادے پورقتل کا ذمہ دار ٹھہرادیا

ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ دار نوپور شرما ہے، سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے گستاخ رسول ﷺ نورپور شرما کو ادے پور قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پورے ملک سے معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔

گستاخ رسول ﷺ سابق بی جے پی رہنما نورپورشرما کے گستاخانہ بیان پر بھارتی سپریم کورٹ برس پڑی، اور نوپور شرما کو معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نوپورشرما نے پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا، جس طرح سے نوپورشرما نے سب کہا وہ شرمناک ہے، نوپورشرما کو پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ نوپور شرما کو خطرات کا سامنا ہے یا وہ سیکیورٹی کیلئےخطرہ بن گئی ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ نوپورشرما کے بیان نے ملک بھر میں شدت پسند جذبات کو بھڑکا دیا ہے، ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے نوپورشرما اس کی ذمہ دارہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے نوپورشرما کو ادے پورقتل کا ذمہ دار بھی ٹھہرادیا۔

نوپورشرما پر پہلا مقدمہ

نوپور شرما کے گستاخانہ بیان پر بھارت کی مسلم سماجی تنظیم رضا اکیڈمی نے 28 مئی 2022 کو ٹویٹ کرکے ان کی گرفتاری کے لیے مہم شروع کی تھی۔ رضا اکیڈمی نے ممبئی میں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے خلاف انڈین قانون کے تحت مقدمہ بھی درج کروایا۔

ایف آئی آر کا اندراج

انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ٹی ایم سی کے جنرل سیکریٹری ابوسہیل کی درخواست پر کونٹائی پولیسا سٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر میں نوپور شرما پر 153 اے سیکشن کی دفعات لگائی گئی تھی، جو دو مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو بڑھاوا دینے سے متعلق ہے۔

اسی طرح ایف آئی آر میں 504، 505 اور 506 کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جو کہ بالترتیب جان بوجھ کر امن کی خرابی کیلئے لوگوں کو ابھارنا، عوامی سطح پر شرارت کرنا اور مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہیں۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج

بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے انتہاپسند ونگ کی اہم رکن نوپور شرما کی جانب سے توہین رسالت کی ناپاک جسارت کا ارتکاب کیا گیا جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔

ٹوئٹر پر بائیکاٹ انڈیا کے نعرے بلند ہونے لگے، عرب دنیا کے مسلمانوں نے بھی اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سعودی عرب میں بھی یہ ٹرینڈ ٹاپ پر ہے۔

نوپورشرما کی حمایت کرنے والا درزی قتل

بھارت کی ریاست راجستھان کے ضلع اودے پور میں 28 جون کو ہندو درزی کا سرتن سے جدا کردیا گیا تھا، جس کے بعد بھارتی ریاست میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ قتل کا یہ واقعہ سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب پیش آیا۔

اودے پور کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ایم ایل لاتھر کا کہنا تھا کہ دو افراد کو جو کہ مبینہ طور پر قتل کے اس واقعے میں ملوث تھے، انہیں راج سمند نامی ڈسٹرکٹ کے علاقے بھم سے گرفتار کیا گیا ہے۔ مقتول کنہیہ لال تیلی دھان منڈی پولیس اسٹیشن کی حدود میں درزی کی دکان چلاتا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق قتل کے روز کچھ لوگ ان کی دکان میں کپڑے سلوانے کے بہانے آئے اور انہیں دکان سے باہر لے جا کر تلوار سے اس کی گردن اڑا دی۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے راج سمند پولیس کے سپرنٹینڈنٹ کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار ہوئے۔

درزی کے قتل کی وجہ

لوگوں کا کہنا ہے کہ ہندو زردی کے قتل کی وجہ بی جے پی کی رہنما نوپور شرما کی سوشل میڈیا پر حمایت تھی والی پوسٹ تھی۔

بھارت کا پاکستان پر الزام

پاکستان نے بھارت کے شہر ادھے پور میں قتل کے الزام میں ملوث بھارتی شہریوں کو پاکستانی تنظیم سے جوڑ کر پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارتی کوششوں کو مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ہم نے بھارتی میڈیا کے ایک حصے میں ادھے پور میں قتل کیس کی تحقیقات کے حوالہ سے رپورٹس دیکھی ہیں جن میں ملزم بھارتی شہریوں کو پاکستان کی ایک تنظیم سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ترجمان نے پاکستان کی جانب سے واضح طور پر اس طرح کے کسی بھی بیان کو مسترد کردیا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ “ہندوتوا” کی طرف سے بھارتی حکومت کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھاکر بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی بدنیتی پر مبنی کوششیں بھارت یا بیرون ملک لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔

نوپور شرما کون ہے؟

نوپور شرما بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی سطح کی ترجمان تھیں۔ سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں، انہوں نے نئی دہلی کی سیٹ سے دہلی کے موجودہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے خلاف مقابلہ کیا تھا۔

تاہم وہ الیکشن نہیں جیت سکیں اور بھاری مارجن سے ہار گئیں۔ نوپور دہلی بی جے پی میں ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کا بھی جانا پہچانا چہرہ ہے۔

نوپور شرما 23 اپریل 1985 کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم دہلی کے متھرا روڈ پر واقع دہلی پبلک اسکول سے حاصل کی۔ نوپور نے اپنی گریجویشن ہندو کالج دہلی سے مکمل کیا۔ وہ اکنامک آنرز میں گریجویٹ ہیں۔ سال 2010 میں، انہوں نے دہلی کی لاء فیکلٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔

نوپور شرما نے لندن سکول آف اکنامکس سے ایل ایل ایم کیا ہے۔ ان کا تعلق ایک سفارتی اور کاروباری گھرانے سے ہے۔

انڈیا

INDIAN SUPREME COURT

nopur sharma

Tabool ads will show in this div