وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، سپریم کورٹ

حمزہ شہباز 22 جولائی تک وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق وزارت اعلیٰ کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی کے درمیان اتفاق رائے ہونے پر عدالت عظمیٰ نے حکم دے دیا۔ عدالتی فیصلہ

فواد چوہدری نے عدالت سے کہا کہ حمزہ شہباز منتخب وزیراعلیٰ نہیں ہیں اور وہ قائم قام وزیراعلی ہوں گے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز کے لیے قائم مقام کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے، ججز جواب نہیں دے سکتے، توہین عدالت کا اختیار استعمال کریں تو آپ کی روز یہاں حاضری لگے گی جبکہ ہم نے تین ماہ کا بحران تین سیشنز میں حل کر دیا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیاست دان اپنے مسئلے خود حل کریں، اگر ہمارے پاس آئیں گے تو پھر ہماری بات ماننا پڑے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ہم حکم جاری کریں گے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کا انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوگا اور اس وقت تک حمزہ شہباز بدستور وزیر اعلی رہیں گے اور اس پر تمام فریقین نے اتفاق کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو شیڈول ہے، جس کے بعد پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تعداد مکمل ہوگی۔

آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ یکم جولائی کو ویڈیو لنک پر موجود پرویز الہی اور حمزہ شہباز کو روسٹروم پر طلب کرلیا۔ دونوں رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دوبارہ پولنگ کیلئے وقت نہ دینے کا سوال ہے۔ سوال یہ ہے عدالت وقت دے تو حکومت کون چلائے گا، وقفے کے بعد بتایا گیا پرویز الہیٰ کو وقت ملنے پر حمزہ پر اعتراض نہیں۔ جس پر پرویز الہیٰ نے کہا کہ آج بھی ایوان کا کنٹرول پولیس نے سنبھالا ہوا ہے، کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے ایسی صورت حال میں ان پر اعتماد نہیں کرسکتا، ہاؤس بھی اس وقت مکمل نہیں ہے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ آپ کے وکیل نے کہا ضمنی الیکشن، ہاؤس مکمل ہونے تک حمزہ پر اعتراض نہیں، اس نقطے پر آپ دونوں حضرات کو طلب کیا۔

لاہور رجسٹری

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری آمد پر میڈیا سے مختصر گفتگو میں اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے کہا کہ ہم عدالتی حکم پر یہاں آئے ہیں اور ہمیں عدالت پر اعتماد ہے۔ دوسری جانب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم میرے پاس گنتی پوری ہے۔

سپریم کورٹ رجسٹری آمد پر عطا تارڑ بھی حمزہ شہباز کے ہمراہ تھے۔ جہاں حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ نے اپنے اپنے وکلا سے قانونی مشاورت کی۔

سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے۔

دونوں رہنماؤں کی عدالت آمد پر سیکیورٹی کی نفری میں اضافہ کردیا گیا ہے، جب کہ غیر متعلقہ افراد کو بھی عدالتی احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان بطور وکیل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے امتیاز صدیقی لاہور رجسٹری سے پیش ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ بابر اعوان بھی اسی درخواست میں وکیل ہیں؟،ایک درخواست میں ایک وکیل کو ہی سنا جائے گا، جس کے بعد وکیل بابر اعوان نے دلائل کا آغاز کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کہا ہے 197میں سے 25 نکال دیں، 25 ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کا انتخاب درست نہیں رہتا، انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186کی ضرورت ہیں، آپ کا مؤقف ہے کہ ہمارے ارکان بیرون ملک ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ دوبارہ انتخابات کیلئے مناسب وقت دیا جائے، اس بات سے متفق نہیں کہ سب کی واپسی کا انتظار کیا جائے، دوسرے مرحلے میں ایوان میں موجود اراکین کی اکثریت نے ووٹ دینا ہے، کم وقت میں انتخابی عمل کے نقطے پر دلائل دیں، عدالت سے آپ کیا ریلیف مانگ رہے ہیں؟۔

بابر اعوان

اس پر معزز عدالت کے روبرو پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ انتظار نہ کرنے کی آپ کی آبزرویشن آ چکی ہے، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایوان میں پہنچنے کا موقع دیا جائے، وزیراعلی کے ہوتے ہوئے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جاسکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی نوٹ میں ووٹنگ کی تاریخ کل کی ہے، کیا آپ کل ووٹنگ پر تیار ہیں؟ کس بنیاد پر لاہورہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کریں؟ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ملک کے اندر موجود ارکان ایک دن میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے دوبارہ انتخابی عمل کیلئے 7 دن کا وقت مانگا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 7 دن مناسب وقت نہیں ہے، جوابا بابر اعوان نے کہا کہ میرے ذہن میں10 روز کا وقت تھا لیکن 7 دن کا عدالت سے مانگا، جسٹس اعجاز نے پی ٹی آئی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے میں لاہور پہنچا جا سکتا ہے، اس موقع پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر نوٹی فکیشن بھی 7 دن تک ہو جائے گا۔

7 روز کی مہلت

بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ پہلے مناسب وقت پر بات مکمل کریں پھر دوسرا نکتہ سنیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ 7 دن تک پنجاب میں کوئی وزیراعلیٰ نہ ہو جب کہ جسٹس اعجاز نے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں تو ان کا فی الحال برقرار رہنا مشکل ہے، قانونی طریقے سے منتخب وزیراعلیٰ کو گورنر کام جاری رکھنے کا کہہ سکتا ہے، عدالتی حکم کے بعد انتخاب کا دوسرا راؤنڈ ہونا ہے، لمبے عرصے تک صوبہ بغیر وزیراعلیٰ کہ نہیں رہ سکتا۔ اگر وزیراعلیٰ کسی وجہ سے دستیاب نہ ہو تو صوبہ کون چلائے گا؟۔

عدالتی ریمارکس پر پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ میری نظر میں موجودہ حالات میں سابق وزیراعلیٰ بحال ہوجائیں گے، جس پر جسٹس اعجاز نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ بیمار ہو جائے یا باہر جائے تو کون صوبہ چلاتا ہے؟ اس پر بابر اعوان نے کہا کہ سینیر وزیر کو وزارت اعلیٰ کا چارج دیا جاتا ہے، جسٹس اعجاز نے پھر کہا کہ ابینہ نہیں ہوگی تو سینیر وزیر کہاں سے آئے گا۔ عدالتی بینچ کو جواباً بابر اعوان نے کہا کہ دوسری صورت میں نگران وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سابق وزیراعلی کے دوبارہ آنے کی کوئی صورت نہیں ہے، سوال صرف یہ ہے کہ آج 4 بجے اجلاس ہونا ہے یا نہیں، اجلاس نہ ہونے پر قائل کریں پھر دیکھیں گے کہ آج نہیں تو کب ہوسکتا ہے۔ کیا کوئی ایسی شق ہے کہ وزیراعلیٰ کے الیکشن تک گورنر چارج سنبھال لیں؟۔

اس دوران پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری معزز بینچ کے سامنے پیش ہوئی اور بات کرنے کی اجازت مانگی اور دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ 25 نکال کر ہمارے ارکان 169 بنتے ہیں۔

چیف جسٹس نے فیصل چوہدری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے، فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ ایوان میں کسی کے پاس اکثریت نہیں ہے، مکالمہ آگے بڑھاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ 17 جولائی کو عوام نے 20 نشستوں پر ووٹ دینے ہیں، ضمنی الیکشن تک صوبے کو چلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ عوام خود فیصلہ کرے تو جمہوریت زیادہ بہتر چل سکتی ہے، گورنر کو صوبہ چلانے کا اختیار دینا غیرآئینی ہوگا، آئین کے تحت منتخب نمائندے ہی صوبہ چلا سکتے ہیں، اسمبلی تحلیل ہونے پر ہی نگراں حکومت بن سکتی ہے، اس نکتے پر تیاری کریں آدھے گھنٹے میں دوبارہ سماعت ہوگی۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ آگئی لاہور ہائیکورٹ نے 24 یا 36 گھنٹے کیوں دئیے، لاہور ہائیکورٹ نہیں چاہتی تھی کہ صوبہ بغیر وزیراعلیٰ کے رہے، سابق وزیر اعلیٰ کو بحال کرنے کی کوئی صورت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد موجودہ صورت حال پیدا ہوئی، سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے آجاتا تو یہ صورت حال نہ ہوتی، درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر موجودہ وزیر اعلیٰ نہیں تو پھر کون؟ اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ہے۔

پرویز الہیٰ

سماعت کے دوران پرویز الہیٰ کی جانب سے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کردی گئی، پرویز الہی کے وکیل نے تین رکنی بینچ کے روبرو استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخابات تک وزیراعلیٰ کا الیکشن روکا جائے۔

پرویز الہی اور حمزہ شہباز طلب

جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ واضح ہے کہ آج 4 بجے والا الیکشن نہیں ہو سکتا، اس پر پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ جو کچھ ابھی پرویز الہی کے وکیل نے کہا ہے وہ پرویز الہیٰ کا موقف ہوگا ہمارا نہیں ہے۔ جواباً عدالت نے کہا کہ حمزہ کو جاری رکھنے پر اعتراض نہیں تو نقطہ صرف الیکشن کے وقت کا رہ گیا، 7 دن کا وقت مناسب نہیں لگتا، اختلافی نوٹ میں دیئے گئے وقت میں ایک دن کا اضافہ ہوسکتا ہے، منحرف رکن کی نشست پر دوبارہ انتخاب تک کام روک نہیں سکتے۔ ایوان میں موجود اراکین ہی دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ 36 گھنٹے سے زیادہ کا وقت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اس موقع پر عدالت نے حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ کو فوری طور پر لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی گئی تھی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے حکم دیا کہ پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز روسٹروم پر آجائیں۔

چیف جسٹس کے ریمارکس

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے دونوں فریقین سے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے زیادہ وقت نہیں دیا گیا، زیادہ وقت نہ دینے کی مختلف وجوہات ہیں، عدالت خود سے وقت دیتی ہے تو حکومت کون چلائے گا۔

عدالت نے پرویز الہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وقفےکے بعد بتایا گیا کہ پرویزالہیٰ کو وقت ملنے پر حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ بننے پر اعتراض نہیں۔ بتایا گیا کہ وقت دیا جائے تو حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکتے ہیں، کیا یہ بات درست ہے۔

پرویزالہیٰ کا مؤقف

پرویزالہیٰ نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ بات اس طرح نہیں، آج بھی ایوان کا کنٹرول پولیس نے سنبھالا ہوا ہے، اسمبلی کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا ہے، کوئی بھی حادثہ ہوسکتا ہے، ایسی صورتحال میں ان پر اعتماد نہیں کرسکتا۔ ہاؤس بھی اس وقت مکمل نہیں ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن

پرویز الہٰی سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت سب کی نظریں اس معاملے پر ہیں، اس کو آئین اور جمہوری روایات کے مطابق حل ہونا چاہیے، وکلا نے کہا کہ پولنگ کا وقت 17تاریخ تک کا دیں، اسی بنیاد پر آپ کو بلایا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کی درخواست میں 26 گھنٹوں کو بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے، جب کہ آپ کے وکیل نے 10 اور 7 دن کی استدعا کی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے پرویز الہیٰ سے کہا کہ آپ کے وکیل نے کہا کہ ضمنی الیکشن اور ہاؤس مکمل ہونے تک حمزہ کے وزیراعلیٰ رہنے پر اعتراض نہیں، ہاؤس مکمل ہونے کے بعد جس کی اکثریت ہوگی وہ وزیر اعلیٰ بن جائےگا، دوسری صورت الیکشن کیلئے وقت کی کمی کی ہے۔

عدالت نے کہا کہ پاکستان میں موجود اراکین کے آنے تک دوسری صورت میں وقت دیا جاسکتا ہے، ملک کو مستقل طور پر اس طرح نہیں چھوڑا جاسکتا، پرویز الہیٰ کی تجویز عدالت کو مناسب لگی تھی، ہاؤس پورا ہونے پر جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائےگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پرویزالہیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہی حالات چلتے رہے تو کسی کا بھی فائدہ نہیں ہونا، کیا آپ کو ضمنی الیکشن تک حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب قبول ہیں۔

حمزہ شہباز بطور وزیراعلیٰ قبول نہیں

پرویزالہیٰ نے عدالت کو جواب دیا کہ حمزہ شہباز کسی صورت وزیراعلیٰ قبول نہیں ہیں۔

چیف جسٹس

چیف جسٹس نے پرویزالہیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ قانونی حل میں ہو سکتا ہے، قانونی حل میں حمزہ بھی ہٹ جائیں گے لیکن آپ کو بھی نقصان ہوسکتاہے۔

پرویزالہیٰ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت دونوں کو آپس میں حل طے کرنے کا وقت دے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کچھ لمحے کے لئے آپ میں اختلافات آئے ہیں، اللہ کرے وہ جلد ختم ہوجائیں۔

حمزہ شہباز کا مؤقف

حمزہ شہباز نے پرویز الہیٰ کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ عدالت کا بہت احترام ہے، کوئی شخص نہیں سسٹم ضروری ہوتا ہے، کوئی شخص سسٹم کیلئے ناگزیر نہیں ہوتا۔

حمزہ شہباز نے عدالت سے استدعا کی کہ آج الیکشن ہونے دیا جائے، ضمنی الیکشن جیتنے پرعدم اعتماد لائی جاسکتی ہے، ہم نے اپنے لوگوں کو حج پر جانے سے روکا، پرویزالہیٰ کا کام تھا اپنے لوگوں کو روک کر رکھتے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مناسب وقت دے دیتے ہیں اگر آپس میں معاملہ طے کرناچاہیں تو بتا دیں۔

حمزہ شہباز نے جواب دیا کہ یقین نہیں دلا سکتا کہ ہمارا اتفاق رائے ہوجائے گا، عدالت17 تاریخ کو وزیراعلیٰ کا الیکشن رکھ لے تو ہاؤس مکمل ہو جائے گا۔

جسٹس اعجازالحسن نے ریمارکس دیئے کہ اب صرف مسئلہ آپ کے وزیراعلیٰ ہونے کا رہ گیا ہے۔

حمزہ شہباز نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ قانونی جواز ہو تو سائڈ پر ہونے کو تیار ہوں، میرے پاس آج بھی اکثریت موجود ہے، سربراہ کے بغیر صوبہ کیسے چل سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ دونوں کے اتفاق سے گورنر کو نگران مقرر کرنے کی ہدایت کر سکتےہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے کہ وزیر اعلی کا الیکشن کب ہونا چاہیے، آئین کہتا ہے ایوان میں موجود اکثریت سے ہی دوبارہ انتخاب میں فیصلہ ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ شہباز مل بیٹھ کرمسئلہ حل کرنے پر آمادہ نہیں، چوہدری صاحب آپ کی دونوں باتیں نہیں مانی جاسکتیں، یا حمزہ کو وزیراعلیٰ تسلیم کرنا ہو گا یا پھرمناسب وقت میں دوبارہ الیکشن ہوگا۔

پرویز الہیٰ نے عدالت میں مؤقف دیا کہ حمزہ کو نگران وزیراعلیٰ رہنا ہے تو اپنا اختیار طے کریں، یہ تو بادشاہ بن جاتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی یہ احکامات ہم جاری کریں گے، قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں موجود ہیں۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے سب اپنی مرضی چلا رہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کا اعلان ہونے پر کوئی تقرر و تبادلے نہیں ہوسکتے۔

عدالت نے پرویز الہی اور حمزہ شہباز کو بیٹھنے کا کہہ دیا۔ اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب قانونی حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پرویز الہیٰ نے عدالت سے کہا کہ حمزہ شہباز کو نگران کے طور پر وزیر اعلی تسلیم کرتا ہوں، صوبے کے مفاد میں کچھ چیزیں حمزہ کے ساتھ بیٹھ کر طے کرنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرویزالہیٰ امیدوار ہیں انہیں اعتراض نہیں توپی ٹی آئی کو کیامسئلہ ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ مجھے ایسی ہدایات نہیں ملیں، پی ٹی آئی اور ق لیگ اتحادی ہیں لیکن الگ جماعتیں ہیں۔

جسٹس اعجاالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے تو صرف7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نےاستدعا کیا کی ہے۔

بابراعوان نے عدالت کو جواب دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے۔

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ یہ مؤقف سبطین خان کا ہے پوری پی ٹی آئی کا نہیں۔

بابر اعوان نے مؤقف پیش کیا کہ الیکشن کمیشن روز کہتا ہےعدالتی حکم ملتے ہی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کریں گے، حمزہ شہباز کو قبول نہیں کرسکتے، عدالت جو مناسب وقت دے گی وہ قبول ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بابراعوان صاحب ہم نے آئینی بحران پیدا نہیں کرنا، دو بڑی واضح آپشنز دی ہیں۔ آپ کا امیدوار کچھ اور چاہتا ہے اور آپ کچھ اور، آپ کی آپس میں بات نہیں بن رہی تو عدالت کیا کرے۔

بابر اعوان نے عدالت سے کہا کہ ہم تو صرف استدعا ہی کرسکتے ہیں، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، پرویزالہیٰ اور حمزہ شہبازنے کچھ واقعات کا ذکر کیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پانی میں مٹی ڈالنے کے بجائے مسئلے کا حل نکالیں، 2 دن میں دوبارہ انتخاب یا حمزہ 17 جولائی تک وزیراعلیٰ، یہی 2 آپشن ہیں۔

وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ سیاسی پوزیشن سے عدالت کو آگاہ کردیاہے۔

چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سیاسی پوزیشن ایوان میں لیں، عدالت میں قانونی بات کریں، پرویزالہٰی نے جو شرائط رکھیں وہ آپ کے اطمینان کیلئے حمزہ پرعائد کی جاسکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ اور آپ کے امیدوار ہی ایک پیج پر نہیں، دو تین دن کیلئے متبادل انتظام ہوسکتا ہے لیکن لمبے عرصے کیلئے نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا، صرف دیکھنا چاہ رہے تھے کہ سینئرسیاستدان مسئلہ کس طرح حل کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے میاں محمود الرشید روسٹم پر آگئے، اور کہا کہ آپس میں طے کیا ہے کہ ہاؤس مکمل ہونے دیا جائے۔

بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ پارٹی سربراہ سے ہدایات لینے کیلئے دس منٹ کا وقت دیں، محمودالرشید کے بیان کے بعد پارٹی سربراہ سے ہدایات لیناضروری ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرویزالہیٰ عمران خان سے رابطہ کریں اور آدھے گھنٹے میں آگاہ کریں۔ سپریم کورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد پرویزالہٰی اورحمزہ شہبازدوبارہ کورٹ روم واپس پہنچے تو پی ٹی آئی کے وکیل امتیازصدیقی نے عدالت کے روبرو مؤقف پیش کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے بات ہوئی ہے، پنجاب حکومت تیارہے،انتخابات ضمنی الیکشن کےتین چارروزبعدہوگا، حمزہ شہبازدوبارہ انتخاب تک وزیراعلیٰ رہیں گے، یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کسی کو ہراساں نہیں کیا جائےگا۔

پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ شفاف ضمنی انتخابات، مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن تک حمزہ وزیراعلیٰ قبول ہیں، آئی جی، چیف سیکرٹری، الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کام کرنے کا حکم دیاجائے۔ الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دونوں کےدرمیان اتفاق رائے پر خوشی ہوئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے بابر کو ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق موجود ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اجلاس اسمبلی بلڈنگ میں ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پرعمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیں گے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ میدان میں مقابلہ کریں جو بہتر ہوگا وہ جیت جائے گا۔

چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا وزیراعلیٰ صاحب کیا دھاندلی کرنےکا ارادہ ہے۔

حمزہ شہباز نے عدالت کو جواب دیا کہ سیاسی ورکر ہوں،جیلیں کاٹی ہیں، صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا، متفق ہوں کہ کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے وکیل فواد چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز قائم مقام وزیراعلیٰ ہوں گے، وہ منتخب وزیراعلیٰ نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حمزہ کے لئے قائم مقام کا لفظ استعمال نہیں کریں گے، ایسے الفاظ استعمال کریں گے جو دونوں فریقین کو قابل قبول ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی نےصرف نیب والی درخواست دی تھی،دوسری آج دی ہے، آپ کے الفاظ سے لگتا ہے آپ کو عدالتی نظام سے کافی تشنگی ہے، عدالت پرباتیں کرنابہت آسان ہے، عدالت پرباتیں کرنابہت آسان ہے،ججزجواب نہیں دےسکتے، تین ماہ کا بحران ہم نے تین سیشنز میں حل کر دیا ہے،
جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیاستدان اپنے مسائل خود حل کریں یاہمارے پاس آکر ہماری بات مانیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومتی بنچزکواپوزیشن کااحترام کرناہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن نہ ہونےسےبہت نقصان ہوا۔

عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا، حمزہ شہباز 22 جولائی تک وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے، کل تک تحریری حکم جاری ہو جائے گا۔

آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا

قبل ازیں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آج بروز جمعہ یکم جولائی کو پٹیشنز دائر کی گئی تھی۔ دائر درخواست میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے آج کی سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرلیا گیا ہے۔ درخواست پر سماعت نماز جمعہ کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے شروع ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ درخواست کی سماعت کی۔ معزز بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال مندوخیل شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی جانب سے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست اپوزیشن لیڈر سبطین خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخابی عمل کو معطل کیا جائے۔ پی ٹی آئی نے نئے انتخابی عمل تک وزیراعلیٰ پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا بھی کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ شفافیت کا تقاضا ہے کہ نئے انتخابی عمل تک حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہ رہیں، اپیل میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی، حمزہ شہباز اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں مذکور پارٹی کی جانب سے اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ہمارا موقف تسلیم کیا، ہائیکورٹ نے مختصر نوٹس پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا، مختصر نوٹس پر اجلاس بلانے سے ریلیف کی بجائے ہمارا نقصان ہوگا۔

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج یکم جولائی کی صبح 11 بجے پنجاب اسمبلی میں ہونا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے منحرف اراکین کے ووٹ شمار کیے بغیر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے دوبارہ انتخاب کروانے کی حد تک فیصلہ جاری کرتے ہوئے 6 درخواستیں اور 3 انٹرا کورٹ اپیلیں خارج کیں۔ جسٹس صداقت علی خان، جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس شاہد جمیل خان نے دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا جبکہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بحال کرنے کا فیصلہ لکھا، اس طرح فیصلہ 4-1 سے آیا۔

8 صفحات پر مشتمل جاری مختصر حکم نامے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ 16 اپریل کو ہونے والے انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی آج (یکم جولائی کو)منحرف ارکان کے 25 ووٹوں کو شمار کیے بغیر کی جائے، ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور دوبارہ انتخابات کے لیے اگر ضرورت پڑے تو پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہی شام 4 بجے ہو گا۔

عدالت کے حکم کے مطابق اگر حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے تو آرٹیکل 130 (4) کے تحت دوبارہ انتخاب کرایا جائے جب تک کہ عہدے کے لیے موجود کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہو، آرٹیکل 130 (4) کے مطابق ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کسی امیدوار کو 186 ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے صرف موجودہ اراکین اور ان کے ووٹوں میں سے اکثریت کی ضرورت ہوگی، پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے 25 ووٹوں کو نکالنے کے بعد حمزہ شہباز مطلوبہ اکثریت سے محروم ہو گئے تو وہ وزیرِ اعلیٰ نہیں رہیں گے۔

عدالت نے فیصلے میں زور دے کر کہا ہے کہ جب تک انتخابی عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور پریزائیڈنگ افسر منتخب وزیرِ اعلیٰ کے نتیجے سے گورنر کو آگاہ نہیں کرتا اس وقت تک پنجاب اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا، گورنر آئین کے تحت بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کا فرض اگلے روز صبح 11 بجے سے پہلے تک ادا کرے گا۔

عدالت نے لکھا ہے کہ بطور وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز شریف اور کابینہ کےتمام فیصلوں کو آئنی تحفظ حاصل ہے، صوبائی اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں ہونے والی بدنظمی کو نظر انداز نہیں کر سکتے لہٰذا دورانِ انتخاب انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کے حق میں ڈالے گئے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کے ووٹوں کو تسلیم کر لیا گیا تھا، اس لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کے عمل کی ضرورت نہیں ہے۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے مزید لکھا کہ 371 ارکان پر مشتمل پنجاب اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ بننے کے لیے مطلوبہ تعداد 186 ووٹوں کی تھی جبکہ ریکارڈ کے مطابق حمزہ شہباز نے 197 ووٹ حاصل کیے، 25 ووٹوں کو گنتی سے نکال کر حمزہ شہباز کے 172 ووٹ تھے، لہٰذا آئین کے آرٹیکل 130 (4) کے تحت وہ منتخب ہونے والے وزیرِ اعلیٰ نہیں ہیں اور انہیں اس عہدے پر فائز رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، غیر منتخب رکن کے دفتر کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ آئین کے خلاف ہے۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اس تمام صورتِ حال کے نتیجے میں عثمان احمد خان بزدار کو فوری طور پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کر دیا جاتا ہے، یہ عدالتی فیصلہ 30 اپریل سے لے کر آج تک بطور وزیرِ اعلیٰ حمزہ شہباز شریف اور کابینہ کے تمام فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

PTI

CHIEF MINISTER PUNJAB

HAMZA SHEHBAZ

USMAN BUZDAR

LAHORE HIGHCOURT

Tabool ads will show in this div