پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا ہماری مجبوری ہے، مفتاح اسماعیل

کوشش کی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں،وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا ہماری مجبوری ہے۔

اسلام آباد میں وزیر مملکت مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر ٹیکس ہونا چاہیے تھا۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو معاہدہ عمران خان کر کے گئے ہیں اسی کو ہم نے بحال کیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنا ہماری مجبوری ہے، کوشش کی ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نےآئی ایم ایف معاہدہ توڑ کر 233 ارب روپےکا نقصان کیا، وہ آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ کر ملک کو دیوالیہ کرنے کے دہانے تک لے آئے تھے، عمران خان حکومت نے لیوی 4روپے ماہانہ کے حساب سے مرحلہ وار بڑھانے کا اعلان کیا تھا، حکومت ڈیزل پر5 اور پیٹرول پر 10 روپے ٹیکس لےرہی ہے۔ اس موقع پر مصدق ملک نے کہا کہ عمران خان کے فیصلوں کا نقصان عوام کو اٹھانا پڑرہا ہے، ہمارے پاس یہ آپشن تھا کہ عمران خان کی حکومت جو کررہی تھی ہم بھی وہی کرتے چلے جاتے لیکن ملک اگر دیوالیہ ہوتا تو کوئی اس کابوجھ نہیں اٹھاسکتا تھا۔

مصدق ملک نے کہا کہ ہمیں مہنگائی پر قابو پانا اور لوگوں کو روزگار دینا ہے، یہ مشکل وقت ہے، ہم پاکستان کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، 4،5 مہینے سختی کے گزریں گے اس کے بعد ملک میں استحکام آجائےگا،یقین دلاتاہوں کہ 4،5مہینے بعد دکھائیں گے کہ کیسے ملک ترقی کی طرف جارہا ہے۔

petroleum prices

Miftah Ismail

Tabool ads will show in this div