لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر قانونی و آئینی ماہرین کا ردعمل

تحریک انصاف اور لیگی وکلاء کی سماء سے خصوصی گفتگو
Jun 30, 2022

تحریک انصاف نے حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل امیتاز صدیقی کا کہنا تھا کہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی وجہ وقت کی کمی اور تحریک انصاف کے مخصوص نشستوں پر نوٹی فکیشن کا معاملہ ہے۔

امیتاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ابھی الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 5 مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن جاری کرنا ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی تحریک انصاف کے 5 ارکین پنجاب اسمبلی حج پر گئے ہوئے ہیں اسلئے تحریک انصاف وقت کی ایکسٹینشن کےلیے سپریم کورٹ جارہی ہے کیونکہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں چند گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے ایک رولنگ پارٹی کے 25 بندوں کو توڑا گیا، اسی پارٹی کے 5 مخصوص نشستوں پر لوگ بھی نوٹیفائی نہیں ہورہے نہ ان کو اپنے اراکین کی اسمبلی میں موجودگی کو یقینی بنانے کےلیے وقت دیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اسی حالت میں الیکشن لڑے۔

امیتاز صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے روزشنی میں کل ایک وزیراعلیٰ ڈی سیٹ ہوجائیں گے۔

پروگرام میں گفتگو کرے ہوئے حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے، ہمارا موقت تو یہ تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوتا مگر عدالت نے سیاسی غیریقینی ختم کرنے کےلیے کہاکہ فیصلے کا اطلاق ماضی پر کریں گے۔

منصور اعوان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں عدالت نے تمام باتیں واضح کی ہے ، کل اسمبلی میں پریزائڈنگ آفیسر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق گزشتہ انتخاب سے تحریک انصاف کے 25 منخرف اراکین کے ووٹ مائنس کرکے دیکھیں گے کہ کسی امیدوا کے ووٹ مطلوبہ 186 پورے ہوتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر مطلوبہ ووٹ پورے نہیں ہوتے تو پھر دوبارہ الیکشن ہوگا اور دوسرے راونڈ میں اسمبلی میں موجود اراکین کے ووٹوں سے فیصلہ ہوگا اور جس کے پاس اکثریت ہوگی وہی وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔

PUNJAB ASSEMBLY

LAHORE HIGHCOURT

Tabool ads will show in this div