پی ٹی آئی نظریاتی کی مسلم لیگ(ن) کو پرویزالہی کو ووٹ نہ دینےکی یقین دہانی

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہی قاف لیگ کے امیدوارہیں

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نظریاتی کے رہنماؤں نے مسلم لیگ(ن) کو پرویزالہی کو ووٹ نہ دینے کی یقین دہائی کروادی ہے۔

سماء کےنمائندہ خصوصی عاصم نصیرنے بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون سے تحريک انصاف نظریاتی گروپ کےاراکين نےرابطہ کیا ہے اور چوہدری پرویزالہی کوووٹ نہ دينےکاعنديہ دیا ہے۔

جمعہ کوووٹنگ کی گنتی کے دوران اورانتخاب کے دوران تحریک انصاف کے نظریاتی گروپ کے رہنماؤں نے ايوان سےغیرحاضر رہنے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہی (ق) لیگ کے امیدوار ہیں اور تحریک انصاف سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اس کےعلاوہ تحریک انصاف کے7اراکين اسمبلی حج پرگئےہوئےہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں حکم دیا ہے کہ پرازینڈنگ افسر25 اراکین اسمبلی کے ووٹوں کو نکل کردوبارہ گنتی کروائے اوراگرمطلوبہ تعداد پوری نہیں ہوتی تودوبارہ وزیراعلی کا انتخاب کروایا جائے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک وزیراعلی کے انتخاب کا عمل مکمل نہیں ہوگا اجلاس ختم نہیں کیا جائے گا۔ تعداد پوری نہ ہونے پرموجودہ وزیراعلی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد نئےوزیراعلی کا انتخاب ہوگا اورزیادہ ووٹ لینے والا ہی وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہوگا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ گورنرپنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کےحلف لینگےاورگورنراگلےروز 11 بجے تک منتحب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے پابند ہونگے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گورنر پنجاب وزیراعلی کے انتخاب کے ضابطہ اخلاق کے بارے میں کوئی رائے نہیں دینگے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 130 شق 5 کا حوالہ دیا اور باور کرایا کہ گورنر آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اپنے فرائض سر انجام دینگے۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ووٹوں کی گنتی تک حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے، اگراکثریت نہ حاصل کرسکے تو حمزہ شہباز وزیراعلی نہیں رہیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نئےالیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا،دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کےخلاف ہوگا اورہم پریزائڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے،عدالت پریزائڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے اوردوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہو گی وہ جیت جائے گا۔

اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل 130 کی شق 6 کے تحت سیکنڈ پول ہوگا۔

عدالت نے حکم دیا کہ حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ کے کئے گئے اقدامات اور فیصلوں کو قانونی تحفظ ہوگا۔

عدالت نے سختی سے ہدایت کی کہ ہم پنجاب اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں بد نظمی کو نظر انداز نہیں کرسکتے،اگراسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی یا بد نظمی ہوئی تو اس کےخلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوگی۔

PERVEZ ELAHI

Tabool ads will show in this div