بیرسٹرعلی ظفر نےلاہور ہائی کورٹ کافیصلہ اچھاقراردےدیا

حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب نہیں رہے

بیرسٹرعلی ظفر نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو اچھا قرار دیا ہے۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی پہنچنے پرصحافیوں سے غیررسمی بات کرتےہوئے بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے اور میرے مطابق حمزہ شہباز وزیراعلی پنجاب نہیں رہے۔

بیرسٹرعلی ظفر نے بتایا کہ عدالت(لاہورہائیکورٹ) نےکہہ دیا کہ وہ 25 ووٹ کاؤنٹ نہیں ہوںگے اور اب جب دوبارہ ووٹوں کی گنتی ہوتی تو 197میں سے25ووٹ نکال کر172بنتےہیں۔

بیرسٹرعلی ظفرنے بتایا کہ اسمبلی کا سیشن پنجاب اسمبلی کی عمارت کےاندر ہی ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں حکم دیا ہے کہ پرازینڈنگ افسر25 اراکین اسمبلی کے ووٹوں کو نکل کردوبارہ گنتی کروائے اوراگرمطلوبہ تعداد پوری نہیں ہوتی تودوبارہ وزیراعلی کا انتخاب کروایا جائے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جب تک وزیراعلی کے انتخاب کا عمل مکمل نہیں ہوگا اجلاس ختم نہیں کیا جائے گا۔ تعداد پوری نہ ہونے پرموجودہ وزیراعلی کے ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد نئےوزیراعلی کا انتخاب ہوگا اورزیادہ ووٹ لینے والا ہی وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہوگا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ گورنرپنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کےحلف لینگےاورگورنراگلےروز 11 بجے تک منتحب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے پابند ہونگے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گورنر پنجاب وزیراعلی کے انتخاب کے ضابطہ اخلاق کے بارے میں کوئی رائے نہیں دینگے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 130 شق 5 کا حوالہ دیا اور باور کرایا کہ گورنر آئین کے اس آرٹیکل کے تحت اپنے فرائض سر انجام دینگے۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ووٹوں کی گنتی تک حمزہ شہباز وزیر اعلی رہیں گے، اگراکثریت نہ حاصل کرسکے تو حمزہ شہباز وزیراعلی نہیں رہیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نئےالیکشن کا حکم نہیں دیا جا سکتا،دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کےخلاف ہوگا اورہم پریزائڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے،عدالت پریزائڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے اوردوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہو گی وہ جیت جائے گا۔

اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل 130 کی شق 6 کے تحت سیکنڈ پول ہوگا۔

عدالت نے حکم دیا کہ حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ کے کئے گئے اقدامات اور فیصلوں کو قانونی تحفظ ہوگا۔

عدالت نے سختی سے ہدایت کی کہ ہم پنجاب اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں بد نظمی کو نظر انداز نہیں کرسکتے،اگراسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی یا بد نظمی ہوئی تو اس کےخلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوگی۔

HAMZA SHEHBAZ

Tabool ads will show in this div