پاکستانی آرٹ کو دنیامیں پہچان دینے والا صادقین

عالمی شہرت یافتہ مصور، خطاط اورنقاش کا 92 واں یوم پیدائش آج منایاجارہا ہے

دنیا میں آرٹ کے حوالے سے پاکستان کوروشناس کروانے والے شہرہ آفاق مصور، خطاط اور نقاش تیس جون انیس سو تیس کو امروہہ میں پیدا ہوئے ۔

صادقین بچپن سے ہی ڈرائنگ کا شوق رکھتےتھے ۔ کہتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو اپنے گھر کی دیواروں کو مختلف اشکال اور رنگوں سے بھر دیتے۔ دیگر بچوں کی طرح انہیں بھی اس حرکت پر بڑوں سے ڈانٹ پڑتی ۔

صادقین کے آرٹ میں ہسپانوی مصور پکاسو کے کام کی جھلک ۔

صادقین نے اپنی زندگی آرٹ کے لئے وقف کر دی اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ فرانسیسی اخبار نے صادقین کے آرٹ ورک کی تعریف کرتے کہا کہ انکے کام میں پکاسو کی جھلک دیکھائی دیتی ہے ۔

صادقین نے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک اپنے تخلیق کردہ فن پاروں کو فروخت نہیں کیا بلکہ اپنے دوستوں کو بطور تحائف پیش کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کےتخلیق کردہ فن پاروں کی تعداد لگ بھگ پندرہ ہزار کے قریب ہے۔

صادقین مصوراورنقاش ہی نہیں شاعربھی تھے ۔

اپنے جذبات ، خیالات اور احساسات کو بیان کرنے کے لئے صادقین نے مصوری کو چننے کے علاوہ شاعری بھی کی ۔ انہوں نے شاعری کی مشکل ترین صنف رباعی کا انتخاب کیا۔

دنیا میں ہیں بے شمار و بے حد نقوی

گن سکتے نہیں اتنے ہیں سید نقوی

بس نام کے اپنے تن تنہا تم ہو

اے سید صادقین احمد نقوی

صادقین نے 16برس کی عمر میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام “جزو بوسیدہ” کے نام سے موجود ہے۔ جس میں انکی ابتدائی دور کی شاعری موجود ہے۔

صادقین کےنمایاں فن پارے

صادقین نے لاہور میوزیم کی چھت کو اپنے فن پاروں سے سجایا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، منگلا ڈیم پاور ہاؤس، نیشنل جیوگرافیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (حیدرآباد، بھارت) اور پنجاب یونیورسٹی کی دیواروں پر بھی ان کے میورلزآویزاں ہیں۔

وفات سے قبل صادقین فرئیر ہال کی چھت کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے سجا رہے تھےلیکن انہیں یہ کام مکمل کرنے کی اجازت نہ مل سکی ۔ تاہم ان کے انتقال کے بعد فرئیر ہال کے اسی مقام کو صادقین گیلری کا نام دیا گیا۔

صادقین کے نایاب فن پاروں کی ایک جھلک ۔

دنیائے مصوری کی دنیا کا درخشاں ستارہ جس نے پاکستان کے نام کو روشن کیا ، فروری انیس سو ستاسی کو آرٹ کی دنیا کا بڑا نام ابدی نیند سو گیا ۔

عالمی شہرت یافتہ صادقین اپنے کام سے اس قدرمخلص تھے کہ انہوں نے اپنے فن پارے بلامعاوضہ تقسیم کیا۔ مشہور ہے کہ صادقین کی زندگی سے زیادہ موت کے بعد ان کا بہت سا کام منظرعام پر آیا لیکن ان میں سے بیشترصادقین کے کام کی نقل ہے۔

art

Tabool ads will show in this div