حمزہ شہبازکی کُرسی گئی: جوبائیڈن ہُن توبچ

لاہورہائیکورٹ کافیصلہ آتے ہی میمز کا طوفان گرم

حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواستوں پرلاہورہائیکورٹ کا فیصلہ آتے ہی سوشل میڈیا پر“جذبات واحساسات “ کا طوفان امڈ آیا۔

لاہورہائی کورٹ کےلارجربینچ نے حمزہ شہبازکو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ہٹانے اورحلف کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں منظورکرتے ہوئے گزشتہ روز 29 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

فیصلہ سامنے آتے ہی ٹوئٹرپرمیمز کا طوفان گرم ہوگیا، کسی نے جذباتی ہوکردل کی بھڑاس نکالی تو کسی نے محظوظ ہوتے ہوِئے دلچسپ پہلو اجاگرکیے۔

ان میمز میں پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار خصوصی توجہ کا مرکزرہے۔

پس منظر:

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں جسٹس شہرام سرورچوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل 5رکنی بینچ نے پی ٹی آئی اورچوہدری پرویز الہٰی کی اپیلوں پرسماعت کی۔

فیصلے میں 4 ججز نے حق میں اور ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

گزشتہ سماعتوں کے دوران عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا، 16 اپریل کو حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے 21ویں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، ایوان میں حمزہ کو مطلوبہ 186 ووٹوں سے 11 ووٹ زیادہ ملے کیونکہ اس ووٹنگ میں پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان بھی ان کے حامی تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے چوہدری پرویز الہیٰ کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

اس ووٹنگ کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،صدرمملکت کی جانب سے دائرکردہ ریفرنس کی تشریح میں سپریم کورٹ نے قراردیا کہ تھا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نہ صرف ڈی سیٹ ہوں گے بلکہ ان کا ووٹ بھی شمار نہیں کیاجائے گا۔

سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو بنیاد بنا کرپی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اور 20 مئی کو سنائے جانے والے فیصلہ میں الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کیا جس کے نتیجے میں حمزہ کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 197 سے کم ہوکر172 ہو گئی، الیکشن کمیشن نے 23 مئی کو پی ٹی آئی کے ان 25 ارکان کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

اس نوٹیفکیشن کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواست میں موقف اپنایا کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمارنہ کیے جانے کے باعث حمزہ شہباز کے ووٹ مطلوبہ تعداد سے کم ہیں اس لیے پنجاب کی وزرات اعلیٰ کے لیے ہونے والا انتخاب کالعدم قراردیا جائے۔

PUNJAB

HAMZA SHAHBAZ

LAHORE HIGHCOURT

Tabool ads will show in this div