حمزہ شہباز نے قانونی ماہرین کو طلب کرلیا

عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہوگا

مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کو طلب کرلیا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد قانونی ماہرین کو اپنی ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ میں طلب کرلیا ہے۔

قانونی ماہرن کی مشاورت سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری کا بیان

دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےعدالت کے تمام فیصلے مانیں ہیں، یہ فیصلہ بھی قابل احترام عدالت نے دیا ہے۔

عظمیٰ بحاری نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں منحرف اراکین کو نکال کے بھی ن لیگ اکثریت میں ہے، پی ٹی آئی نے اب رونا نہیں اور بھاگنا نہیں ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں ہماری تعداد اس وقت177 ہے، جب کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کی مل کر بھی مجموعی تعداد 168 بنتی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہو گا اور حمزہ شہباز دوبارہ واضح اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔

لیگی ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے الیکشن پر گجرات کے غنڈوں اور پی ٹی آئی کو اثر انداز ہونے پر سزا دی جائے گی، اب رونا مت اور بھاگنا مت۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدالتی فیصلہ

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کے خلاف درخواستیں منظور کرلی ہیں۔

شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کے خلاف پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق) اور اسپیکر پنجاب اسمبلی نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

عدالت عالیہ نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

pmln

HAMZA SHAHBAZ

Tabool ads will show in this div