تاوان نہ ملنے پر بچے کو قتل کرنے والے 3 مجرمان کو سزائے موت

ایک مجرم کو دو بار عمر قید اور ایک کو سات سال قید کی سزا

انسداد دہشتگردی عدالت نے بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر تین مجرمان کو سزائے موت سنادی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کوئٹہ ون کے جج عبدالمجید ناصر نے اغواء اور قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر 3 مجرمان کو موت کی سزا سنادی۔

عدالت نے ایک مجرم کو دو بار عمر قید اور ایک مجرم کو سات سال قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ کے مطابق پانچوں مجرمان نے 15 فروری 2021 کو کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن سے 10 سالہ علی شیر کو اغوا کیا تھا۔

مجرمان نے بچے کے لواحقین سے 3 کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا، تاہم اہل خانہ اتنی بڑی رقم کا بندوبست نہ کرسکے، جس پر سفاک مجرموں نے تاوان نہ دینے پر اگلے روز مغوی بچے کو پشین کے علاقے سرانان میں قتل کردیا، جب کہ بچے کی لاش جلادی تھی۔

سرکار کی جانب سے کیس کی پیروی ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر زاہد علی خان نے کی، اور کیس کا مقدمہ پولیس تھانہ بروری کوئٹہ میں درج کیا گیا تھا۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر داؤد شہزاد، مہدی اور افتخار کو دو دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔

عدالت نے مجرم محمد باقر کو دو مرتبہ عمر قید اور مجرم روح اللہ کو سات سال قید کی سزا سنائی۔ سزا پانے والا محمد باقر مقتول بچے کا بھتیجا تھا۔

کوئٹہ

KILLING

Child Kidnap

Tabool ads will show in this div