کابینہ کی خصوصی کمیٹی آج41ارب روپے پاکستان منتقلی کا جائزہ لےگی

کس اکاؤنٹ میں منتقل اور کہاں استعمال ہوئے

وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی آج بروز جمعرات 30 جون کو برطانیہ سے پاکستان رقم منتقلی کا جائزہ لے گی۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے 41 ارب روپے پاکستان منتقل کیے گئے۔

خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ہوگا، جب کہ وزیر خزانہ، قانون و انصاف، داخلہ اور مواصلات کے وفاقی وزراء، وزیر مملکت خارجہ امور اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر بھی شریک ہوں گے۔ اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری خارجہ، سیکرٹری کابینہ اور سیکریٹری داخلہ کو آج ہونے والے اجلاس کے دعوت نامے بھجوائے گئے ہیں۔

آج ہونے والے خصوصی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں احمد علی ریاض اینڈ فیملی اور بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس منجمد ہونے کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ کابینہ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ فنڈز برطانیہ سے پاکستان کے کس اکاؤنٹ میں منتقل اور کہاں استعمال ہوئے؟۔ کابینہ کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ مذکورہ رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ میں کیوں جمع کرائی گئی؟۔

رانا ثنا اللہ کا بیان

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے رقم پاکستان منتقلی کی ڈیل سے متعلق خفیہ دستاویز منظر عام پر لاتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر 19 کروڑ پاؤنڈز (50 ارب روپے) کے ضبط شدہ فنڈز کی واپسی کے لیے کک بیکس کی مد میں 5 ارب روپے لیے جو مبینہ طور پر برطانیہ بھیجے گئے تھے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ ریاست کے نگہبان ہونے کے ناطے اس رقم کی حفاظت سابق وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے ضبط شدہ رقوم کی واپسی کا انتظام کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ برطانیہ سے آنے والی رقم کی منتقلی کے عوض معاہدے کے تحت بحریہ ٹاؤن نے 458 کنال قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کو عطیہ کی۔ اس معاہدے پر بحریہ ٹاؤن کے ساتھ دستخط کرنے والی شخصیت سابق خاتون اول بشریٰ بی بی تھیں کیونکہ القادر ٹرسٹ کے 2 ہی ٹرسٹی ہیں ایک عمران خان اور دوسری بشریٰ بی بی۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ القادر ٹرسٹ کی طرح بشریٰ بی بی کی دوست فرحت شہزادی کو بھی بنی گالہ میں 240 کنال زمین دی گئی۔

رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سابق حکومت نے اس رقم کے حصول کیلئے کوئی کوشش نہیں کی تھی تاہم ایسٹ ریکووری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے اس بات کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالا تھا اور کہا تھا کہ ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جو جرمانہ عائد ہوا تھا یہ وہ رقم تھی جو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، کیوں کہ سپریم کورٹ بھی ریاست کا حصہ ہے۔

قصہ 190 ملین پاؤنڈز کا

ملک رياض سے جڑے 190 ملين پاؤنڈ کے تصفيے کے تذکرے نئے نہيں۔ دسمبر سال 2019 ميں غير ملکی اخبار دی گارجين نے اپنی خبر ميں لکھا تھا کہ پاکستانی بزنس ٹائيکون ملک رياض 190 ملين پاؤنڈز کی رقم اور اثاثے برطانوی حکام کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ دی گارجين کی خبر کے مطابق ملک رياض کيخلاف ہونے والی تحقيقات ميں 190 ملين پاؤنڈز سے زائد اثاثے ضبط کيے گئے۔

دی گارجين کے مطابق جائیداد اور رقوم غیرقانونی ذرائع سے حاصل کیے جانے کے الزام ميں برطانیہ کی نيشنل کرائم ايجنسی نے 9 اکاؤنٹس بھی فريز کيے۔ جس ميں ايک سو چاليس ملين پاؤنڈز کے فنڈ موجود تھے۔ اخبار کا کہنا تھا کہ يہ رقم اور ضبط کيے گئے اثاثے رياست پاکستان کو لوٹا ديے جائيں گے۔ جہاں ملک رياض کے خلاف فراڈ اور کرپشن کا کيس چل رہا ہے۔

برطانوی نيشنل کرائم ايجنسی نے سب سے پہلے سال 2018 ميں ملک رياض کی بيس ملين پاؤنڈ کی رقم منجمد کردی تھی۔ جس کے بعد اگست 2019 میں اسی تحقیقات کے سلسلے میں 8 بینک اکاؤنٹ منجمد کیے گئے تھے جن میں رقم موجود تھی، جو کہ اُس وقت کسی بھی اکاؤنٹ کی منجمد ہونے والی سب سے بڑی رقم تھی

عدالتی اپیل

برطانيہ ميں منجمد کی گئی بھاری رقوم کا کيس برطانوی عدالت میں چلا تھا، جس کے بعد برطانوی عدالت نے ملک رياض اوران کے بيٹے کے برطانوی ويزے منسوخ کرديئے تھے، جب کہ دس سال تک برطانيہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ملک رياض نے فيصلے کے خلاف اپيل دائر کی تھی جو نومبر دو ہزاراکيس ميں مسترد کردی گئی تھی۔

برطانوی عدالتی فیصلے میں پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلوں، احکامات نیب انکوائریز اور بحریہ ٹاؤن سے منسلک جے آئی ٹی رپورٹ کا بھی ذکر کيا گيا۔ فیصلے میں کہا گيا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن کيس میں ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے دینے کی حامی بھری ، جس سے بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔

britain

Malik Riaz

SHAHZAD AKBAR

Tabool ads will show in this div