خیبرپختونخوا کے سرکاری دفاتر کو پیپر لیس بنانے کا فیصلہ

پیپرلیس پروگرام 32 صوبائی محکموں میں متعارف ہوگا

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری دفاتر میں روایتی کاغذی فائلوں کے خاتمے کے منصوبے کا اعلان کردیا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن پروگرام کے سلسلے میں مختلف اداروں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کردیے۔

صوبائی حکومت نے صوبے میں سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے لئے نادرا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

پروگرام کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 7 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹیزن فسلیٹیشن سنٹر قائم کئے جائیں گے، حکام کے مطابق اگلے مرحلے میں سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کو اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔

فیسیلیٹیشن سنٹرز میں شہریوں کو مختلف شہری خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم ہونگے جبکہ شہری مختلف نوعیت کی خدمات ویب پورٹل اور موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے بھی حاصل کر سکیں گے۔

پروگرام کے تحت سرکاری محکموں کے جملہ امور کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے سرکاری محکموں کے 170 امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق پیپر لیس گورنمنٹ پروگرام پر عملدرآمد سے سرکاری محکموں کی استعداد میں بہتری کے ساتھ ساتھ سرکاری امور میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا۔ پیپرلیس گورنمنٹ پروگرام تمام 32 انتظامی محکموں میں متعارف کروایا جائے گا۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا پیپر لیس گورنمنٹ پروگرام ڈیجیٹل گورننس کی طرف اہم اقدام ہے، ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کی صورت میں عمران خان کے وژن ڈیجیٹل پاکستان کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت محکموں میں پہلے ہی ای سمری متعارف کرا چکی ہے اور پیپر لیس گورنمنٹ پروگرام ڈیجیٹل گورننس کی طرف اہم اقدام ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف حکومت کا دوسرا دور بھی آخری سال میں داخل ہوا لیکن حکومتی اعلانات کے مطابق اس عرصے میں زمینوں کا ریکارڈ کمپپوٹرائزڈ ہوا نہ ہی ارکان اسمبلی کمپوٹروں سے مستفید ہوئے۔

cm kpk

KP GOVERNMENT

Tabool ads will show in this div