دعا زہرا کیس، تفتیشی افسرکی تبدیلی کی درخواست،ایڈیشنل آئی جی کو نوٹس

عمر کے صحیح تعین کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جاچکا ہے

کراچی کی ماتحت عدالت نے دعا زہرا کیس کے تفتیشی افسر کی تبدیلی کی درخواست پرایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

بدھ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کراچی میں دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کرنے سے متعلق مہدی کاظمی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

مہدی کاظمی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 17 جون کو آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن کو درخواست دی کہ دعا زہرا کیس کا تفتیشی افسر تبدیل کیا جائے لیکن اب تک اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایڈیشنل آئی جی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ اور تفتیشی افسر شوکت شاہانی سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرا کی عمر کے صحیح تعین کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جاچکا ہے۔

بورڈ کی سربراہی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پرنسپل پروفیسر صبا سہیل کریں گی جب کہ بورڈ کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر سکندر رفیق، ڈاکٹر رانی، پروفیسر نازلی حسین، ڈاکٹر رملہ ناز، پروفیسر شاہ جہاں اور پولیس سرجن بھی شامل ہیں۔

کیس کا پس منظر

دعا زہرہ اپریل میں اپنے گھر سے باہر سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئی تھی، دعا کے والد مہدی علی کاظمی نے سندھ ہائی کورتٹ میں دعا کی بازیابی کے لئے سندھ اہئی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

چند روز بعد دعا زہرا کی لاہور میں شادی کی اطلاعات ملی تھیں لیکن اسے 5 جون کو چشتیاں سے بازیاب کرایا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں 6 جون کو پیشی کے دوران دعا زہرا نے عدالت کے روبرو کہا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ،اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

عدالت نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ میڈیکل ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ دعا زہرا کی عمر 14 سال نہیں بلکہ 16 اور 17 سال کے درمیان ہے۔

dua zehra case

Tabool ads will show in this div