افغانستان کی سابق قیادت بیرون ملک محلوں میں آباد اور عوام فاقوں پر مجبور

ان افسران نے دوران اقتدار بیش قیمت جائیدایں بنائی ہوئی تھیں

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بیرون ملک فرار ہونے والے سابق صدر اشرف غنی کے دور کے متعدد افسران دبئی اور امریکا میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق اگست 2021 میں طالبان کے برسراقتدار میں آتے ہی درجنوں سرکاری افسران دبئی اور امریکا فرار ہوگئے تھے۔

یہ افسران دبئی میں انتہائی پرتعیش بنگلوں میں مقیم ہیں جب کہ کئی اعلیٰ عہدے داران کیلی فورنیا میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔

ان افسران نے دوران اقتدار بیش قیمت جائیدایں بنائی ہوئی تھیں۔ امریکی ادارے کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ افغان صدارتی محل اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی سے لاکھوں ڈالرز غائب ہوگئے تھے اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سابق صدر اشرف غنی نے افغانستان سے جاتے ہوئے اپنے ساتھ لاکھوں ڈالرز نہیں لئے تاہم وہ ابوظبی کے سینٹ ریجز ہوٹل میں مقیم تھے اور اب بھی متحدہ عرب امارات میں رہائش اختیارکئے ہوئےہیں۔

اہم بات یہ بتائی گئی ہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز کے لیے کام کرنے والے ہزاروں افغان شہریوں کو بھی ملک سے باہر نکالا گیا تاہم ان میں سے اکثریت دنیا بھر میں موجود پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے اور ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

مئی میں یورپی یونین کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجودہیں جن میں سے 7 لاکھ 75 ہزار پناہ گزینوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ان میں سے اکثریت انتہائی خراب حالت میں رہائش پذیر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پچھلے 40 برسوں میں پاکستان آئے ہیں۔

افغانستان

Tabool ads will show in this div