ادارے نیوٹرل ہوئے تو عمران خان جیت نہیں سکتے،بلاول

عمران خان اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دھاندلی سے فائدہ اٹھانے والے آج دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، عمران خان اداروں کو متنازعہ بنانے کی تحریک چلا رہے ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ ادارے نیوٹرل کیوں ہوئے، ادارے نیوٹرل نہ ہوئے تو خان صاحب جیت نہیں سکتے، ادارے نیوٹرل ہونا شروع ہوئے تو یہ لوگ پریشان ہونا شروع ہوگئے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ 29 جون کو اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اس موقع پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پی پی چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی پی تین نسلوں سے فرعون اور ظالم کا مقابلہ کرتی آرہی ہے، جیالے آمریت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے، ہم نے آمریت کا مقابلہ کیا، پیپلزپارٹی کو روکنے کیلئے دھاندلی ہوتی تھی، ہم 3 نسلوں سے جدوجہد کرتے آرہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسے بھی اسمبلی چل سکتی ہے، آج قومی اسمبلی کا اجلاس بہت مناسب ماحول میں ہو رہا ہے، اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کم تعداد کے باوجود آپ نے بہت ٹائم دیا ہے، ہم اپوزیشن میں تھے تو کوئی بات نہیں کرنے دیتا تھا۔

اس موقع پر سندھ کے بلدیاتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ بار بار سندھ کے لوکل باڈی کا ذکر ہوتا آرہا ہے، مناسب ہوتا کہ یہ شکایت سندھ اسمبلی میں اٹھائی جاتی، شفاف الیکشن کی جدوجہد پی پی کرتی آرہی ہے، تعجب اس بات پر ہے کہ دھاندلی کا فائدہ اٹھانے والے ہی شور مچا رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ ادارے نیوٹرل کیوں ہوئے، ادارے نیوٹرل نہ ہوئے تو خان صاحب جیت نہیں سکتے، ادارے ٹائیگر فورس بن کر کام کریں تو ٹھیک مانتے ہیں، ادارے نیوٹرل ہونا شروع ہوئے تو یہ لوگ پریشان ہونا شروع ہوگئے، ادارے غیر متنازعہ رہے تو ضمانت ضبط ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ دھاندلی کا شور مچانے والے 2018 کے الیکشن میں دھاندلی سے آئے۔

سندھ بلدیاتی انتخابات پر دھاندلی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ ہمیں بھی لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی تو انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا، یہ لوکل باڈی الیکشن سے بھاگنا چاہتے تھے، جو بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں سندھ کے عوام ووٹ نہیں دیں گے، فیز ٹو ایک ماہ بعد ہوگا وہاں بھی مخالفوں کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی، ہمیں نظر آرہا ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہو تو پی پی کی کارکردگی سامنے آتی ہے، مداخلت نہ ہو تو پیپلز پارٹی جیتتی ہے۔

لاڑکانہ کی سیٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم لاڑکانہ سے الیکشن جیتیں تو دھاندلی کا الزام لگتا ہے ۔ آپ بتائیں یہ کیسی ڈرامہ بازی ہے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری پارٹی کا کوئی بھی شخص دھاندلی میں ملوث ہوا تو خود اسے پکڑو گا، غلط الزام لگایا جائے گا تو یہ نہیں سننا برداشت نہیں ہوگا۔

NATIONAL ASSEMBLY

BILAWAL BHUTTO

SINDH LOCAL GOVERNMENT

Tabool ads will show in this div