شام کےحراستی مرکزمیں 18 ماہ میں 106افراد کو قتل کئے جانے کا انکشاف

یہ کیمپ شمال مشرقی حصےمیں کرد اکثریتی علاقے میں موجود ہے

شام کے حراستی مرکز میں 18 ماہ میں 100 سے زائد افراد کو قتل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

شام میں اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کوارڈینیٹر عمران رضا نےجنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ال ہول کیمپ میں 18 ماہ کے دوران 100 سے زائد افراد قتل کردئیے گئے جس میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں۔

انھوں نے اس کیمپ کو یہاں موجود قیدیوں اور بالخصوص بچوں کےلیے غیرمحفوظؓ قرار دیا۔

شام میں یہ کیمپ شمال مشرقی حصے میں کرد اکثریتی علاقے میں موجود ہے اور یہ عارضی حراستی مرکز ہے۔

اس حراستی مرکز میں اس وقت بھی 56 ہزار قیدی موجود ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق شام اورعراق سے ہے اوروہ داعش سے منسلک رہے ہیں۔

یہاں دیگر ممالک کے شہری بھی قید ہیں جب کہ داعش کے جنگجوؤں کے اہل خانہ اور بچے بھی یہاں رکھے گئے ہیں۔

عمران رضا نے بتایا کہ اس حراستی مرکز میں جنس کی بنیاد پر تشدد کیا جاتا ہے یہاں کئی نوگو ایریاز بھی موجود ہیں۔

Syria

Tabool ads will show in this div