افغان حکومت نے کوئلے پر برآمدی ڈیوٹی ڈبل کردی

وزیراعظم نے افغانستان سے کوئلہ درآمد بڑھانے کا اعلان کیا تھا

افغانستان کے وزارت فنانس نے کوئلے کی برآمدات کے حوالے سے منگل کو ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ کوئلے کی برآمدی مالیت (ویلیوایشن) 90 ڈالر سے بڑھ کر 200 ڈالرفی ٹن کردی گئی ہے۔

افغان وزارت فنانس کے مطابق کوئلے پر برآمدی کسٹم ڈیوٹی 30 ڈالر ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔

پاک افغان تجارت سے منسلک تاجروں کا کہنا ہے کہ کوئلے کی ویلیو ایشن 100 فی صد سے زائد بڑھنے سے کسٹم ڈیوٹی بھی دگنی ہوجائے گی اور فی ٹن ڈیوٹی 60 ڈالر سے تجاوز کرجائیگی۔

سرحد چیمبر آف کامرس کے چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پاک، افغان باہمی تجارت شاہد حسین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے سیمنٹ، اسٹیل اور انرجی سمیت تمام ہی صنعتیں متاثر ہوں گی۔

شاہد حسین کا کہنا تھا کہ فرنس آئل مہنگا ہونے کے باعث کوئلے کا صنعتوں میں استعمال زیادہ ہوگیا ہے لیکن اب کوئلہ بھی مہنگا ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں ملک میں توانائی بحران کے پیش نظرافغانستان سے کوئلہ درآمد بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات میں کہا تھا کہ ولائی میں افغانستان سے کوئلہ آنا شروع ہو جائے گا۔ کوئلے سے بند پراجیکٹس چلائیں گے۔ اس سے بجلی پیدا ہوگی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہو چکا ہے جس سے پاکستان کے اربوں ڈالر کوئلے کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں مگر افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے دو ارب ڈالر کے قریب بچیں گے۔

افغانستان

coal

Tabool ads will show in this div