ایکواڈور : احتجاج کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک،متعدد زخمی

لاطینی امریکی ملک ایکواڈور میں شدید عوامی احتجاج کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کئی ہفتوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد ایکواڈور کے صدر گلیامو لاسو نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں فی گیلن 10 سینٹ کمی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کئی دنوں سے جاری ان احتجاجی مظاہروں میں اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں سے اب تک پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر گلیامو لاسو نے قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10 سینٹ فی گیلن کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں ان احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرنے والی تنظیم نے قیمتوں میں بالترتیب 30 سینٹ اور 35 سینٹ کی کمی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایکواڈور کے وزارت توانائی کا کہنا ہے اگر مظاہرے ایسے ہی جاری رہے تو ملک میں تیل کی پیداوار 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں معطل ہو جائے گی کیونکہ توڑ پھوڑ، تیل کے کنوؤں پر قبضے اور سڑکوں کی بندش نے آپریشن جاری رکھنے کے لیے درکار آلات اور ایندھن کی نقل و حرکت روک دی ہے۔

ایکواڈور کی معیشت کا انحصار تیل کی پیداوار پر ہے اور گزشتہ چار ماہ سے یہ ملک اپنی مجموعی پیداوار کا 65 فیصد تیل برآمد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا کی طرح متعدد غریب ممالک کے دیوالیہ ہو جانے کا خدشہ ہے جبکہ متعدد ممالک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ecuador

petroleum prices

latin america

Tabool ads will show in this div