نازی کیمپ کے 101 سالہ معمر گارڈ کو جنگی جرائم پر 5 سال قید

ملزم نے کیمپ میں 3518 قیدیوں کے قتل میں حصہ لیا تھا ، استغاثہ

جرمنی کی عدالت نے نازی حراستی کیمپ کے 101 سالہ معمر گارڈ کو جنگی جرائم کے الزامات پر 5 سال قید کی سزا سنادی۔

استغاثہ کے مطابق جوزف شوئٹز 1942 اور 1945 کے درمیان برلن کے شمال میں واقع اورین برگ میں واقع ساچسین ہاؤسن کیمپ میں جیل گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا جبکہ ملزم کا کہنا ہے اس مدت کے دوران وہ شمال مشرقی جرمنی میں ایک کھیت میں مزدوری کرتا تھا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے کیمپ میں 3518 قیدیوں کے قتل میں حصہ لیا اور اسے پانچ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا مطالبہ کیا۔

عدالت نے یہ ثابت کیا کہ اس نے 1942 اور 1945 کے درمیان برلن کے مضافات میں واقع کیمپ میں نازی پارٹی کے نیم فوجی ونگ کے رکن کے طور پر کام کیا، اُس وقت ان کی عمر 21 سال تھی، اس دوران انہیں متعدد افراد کے قتل میں معاون ہونے کا مجرم پایا گیا۔

صدارتی جج اُڈو لیکٹرمین نے منگل کو نیوروپپن ریجنل کورٹ میں فیصلہ سنایا لیکن اس سزا کے باوجود اس کی عمر کو دیکھتے ہوئے اسے سلاخوں کے پیچھے ڈالے جانے کا امکان بہت کم ہے۔

ملزم جوزف شوئٹز نے عدالت کے سامنے اپنے بے قصور ہونے کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بالکل کچھ نہیں کیا اور وہ کیمپ میں کیے جانے والے بہیمانہ جرائم سے آگاہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دور میں 1941 سے 1945 کے دوران جرمنی میں نازی حکومت نے مبینہ طور پر یہودیوں کا قتل عام کیا تھا جس میں یہودیوں کے دعوے کے مطابق 6 لاکھ سے زیادہ یہودی ماردیے گئے تھے جبکہ کچھ ذرائع اس تعداد کو 40 سے 50 ہزار کے درمیان بتاتے ہیں۔

ہٹلر نے یہودیوں کے قتل عام کیلئے مختلف مقامات پر کیمپ قائم کیے تھے جہاں ان یہودیوں کو قید رکھا جاتا تھا اور ان سے جبری مشقت بھی لی جاتی تھی۔

نازیوں نے یہودیوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ جرمنی کے سماجی، معاشی، سیاسی، اور ثقافتی مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ خصوصاً انہوں نے عالمی جنگِ عظیم اول (1914–1918) میں جرمنی کی شکست کا الزام ان پر لگایا تھا۔

germany

nazi

world war II

Tabool ads will show in this div