سری لنکا میں پیٹرول کی غیرضروری فروخت پر پابندی عائد

شہریوں کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت

سری لنکا میں پیٹرول کی غیر ضروری فروخت پر پابندی عائد، شہریوں کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اگلے دو ہفتوں تک صرف بسوں، ٹرینوں اور طبی خدمات اور خوراک کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ایندھن بھرنے کی اجازت ہوگی۔

شہری علاقوں میں اسکول بند ہیں اور حکام نے ملک کے 22 ملین باشندوں کو دفتری کام گھروں سے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سری لنکا پہلا ملک ہے جس نے عام لوگوں کو ایندھن کی فروخت روکنے کے لیے سخت قدم اٹھایا ہے، عام شہریوں کو پیٹرول کی فراہمی 10 جولائی تک بند رہے گی۔

سری لنکن کابینہ کے ترجمان کے مطابق ملک کو تاریخ میں پہلی بار اتنے شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، سری لنکن حکام روس اور قطر کے ساتھ کم نرخوں پر تیل کی فراہمی کے حوالے بات چیت کررہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی ٹیم بھی تین ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج پر مذاکرات کیلئے سری لنکا پہنچی تھی، سری لنکن حکومت بھارت او چین کے ساتھ بھی ضروری اشیا کی امپورٹ کے سلسلے میں بات چیت کررہی ہے۔

رواں سال مئی میں سری لنکا ڈیفالٹ ہوگیا تھا جس کے بعد وہاں افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، حکومتی رہنماؤں کے گھروں پر حملے کیے گئے اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔

Sri Lanka

economic crisis

PETROL PUMPS CLOSED

Tabool ads will show in this div