نورمقدم قتل کیس،ظاہرجعفرکی جیل اپیل پرمدعی مقدمہ اوروفاق کو نوٹس

مجرموں کی سزا بڑھانے کیلئےشوکت مقدم کی درخواست پرآئندہ سماعت پردلائل طلب

اسلام آبادہائیکورٹ نےنورمقدم قتل کیس میں ظاہرجعفرکی جیل اپیل پرمدعی مقدمہ اور وفاق کو نوٹس جاری کردیا۔ مجرموں کی سزا بڑھانے کیلئے شوکت مقدم کی درخواست پرآئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے گئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی۔ مدعی مقدمہ سابق سفیر شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاورعدالت میں پیش ہوئے۔

نورمقدم کی والدہ، بھائی اوردیگر اہل خانہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نےریمارکس دئیے کہ سب سے پہلے بریت اور سزا بڑھانے کو دیکھیں گے کیونکہ نوٹس ہونے ہیں۔

مجرم جان محمد کے وکیل نےعدالت کوبتایا کہ ہم نے سزا معطل کرنے کی درخواست بھی دے رکھی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں مختلف اپیلیں فائل ہیں، اس لیے ایک ایک کرکے دیکھیں گے اور کیوں کہ سب سے پہلے ظاہر جعفر کی جیل اپیل ہے،اس لئے کوئی سرکاری وکیل لگانا پڑے گا۔

عدالت نے ظاہرجعفرکی جیل اپیل پرمدعی مقدمہ اور وفاق کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ رجسٹرار آفس کے پاس کیس کا ریکارڈ آگیا ہے اور اب پیپر بک بنائی جائے۔

مجرموں کی سزا بڑھانے کیلئے شوکت مقدم کی درخواست پرآئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے گئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نےکیس کی مزید سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

مجرمان ظاہرجعفر، افتخار اور جان محمد نے سزا کےخلاف اپیل کررکھی ہے۔شوکت مقدم نے مجرمان کی سزا بڑھانے اور 6 افراد کی بریت کو چیلنج کررکھا ہے۔

جیل اپیل کیا ہوتی ہے؟

جس مجرم کی جانب سے عدالت میں کوئی وکیل پیش نہیں کیا جاتا، جیل انتظامیہ اس کی طرف سے اپیل اس کے دستخط کے ساتھ دائرکراتے ہیں تاکہ سزا پر اپیل کا مرحلہ پورا ہو۔

ظاہر جعفر نے بھی مقدمے کی سماعت کے دوران کوئی وکیل نہیں کیا تھا اس لئے ظاہر جعفر کی جانب سے جیل اپیل دائر کی گئی ہے۔

عدالتی فیصلہ

ظاہر جعفر کو عدالتی کارروائی پر آنےوالےاخراجات کی مد میں بھی نور مقدم کے خاندان کو5 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ظاہر جعفر کو سزائے موت کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں سنا دی گئیں جن میں حبسِ بےجا کی دفعہ 364 پر 10 سال قید کی سزا اور1لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

مجرم ظاہر جعفر کو دفعہ 342 کے تحت 1 سال قید بامشقت اور جنسی زیادتی پر 25 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

فیصلے میں عدالت نے تھراپی ورکس کے تمام ملازمین کو بری کردیا، جب کہ شریک ملزمان چوکیدار افتخار اور مالی جان محمد کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مجرم ظاہرجعفر کے والدین، تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور اور دیگر ملازمین کو بری کردیا گیا۔ عدالت کی جانب سے ظاہر جعفر کے خانساماں جمیل کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ گزشتہ سال 20 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں نور مقدم کو ظاہر جعفر نے اپنے گھر میں قتل کیا تھا۔

عیدالضحیٰ سے ایک روز قبل 20 جولائی 2021 کو رات 10 بجے نور مقدم کے والد شوکت مقدم کو پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ان کی بیٹی کا قتل ہو گیا ہے، وہ فوری تھانہ کوہسار پہنچیں۔ جہاں سے پولیس ان کو لے کر اسلام آباد کے ایف سیون فور میں ملک کے معروف بزنس مین ذاکر جعفر کے گھر لے گئی، جہاں نور مقدم کی سر کٹی ہوئی لاش کی شناخت کی گئی۔ پولیس نے موقع سے ہی ذاکر جعفر کے بیٹے ظاہر جعفر کو مبینہ طور پر آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس نے ظاہر جعفر کو خون آلود قمیض میں سیکٹر ایف سیون اسلام آباد کے گھر سے گرفتار کرکے آلۂ قتل بھی برآمد کیا تھا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں قتل کا یہ مقدمہ چار ماہ آٹھ دن چلا، عدالت نے 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 28 سالہ نور مقدم کو گزشتہ سال عید الضحیٰ سے ایک روز قبل قتل کیا گیا تھا۔ وہ سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی تھی۔

گزشتہ سال 20 جولائی کو واردات ہونے کے بعد کیس کے ٹرائل کا اکتوبر میں آغاز ہوا جو 4 ماہ میں اختتام ہوا۔ 24 فروری کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اس کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنائے گی۔

خبر منظر عام پر آنے کے بعد مقتولہ کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھائیں اور وزیراعظم عمران خان نے اس کیس کا نوٹس لے لیا۔ اس قتل کے وقت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین عید الضحیٰ منانے کے لیے کراچی میں موجود تھے۔ جنہیں اسلام آباد پولیس نے 24 جولائی کو جائے وقوعہ پر موجود ملازمین سمیت جرم کے شواہد چھپانے اور اعانت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

جولائی 26 کو وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم ظاہر جعفر کا نام بلیک لسٹ میں ڈالتے ہوئے تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ملزمان کے نام 10 اگست کو ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔

واقعہ کا مقدمہ

واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (منصوبہ بندی کے تحت قتل) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ کیس کے سلسلے میں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا تھا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔

سپریم کورٹ

ستمبر 29 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ جس کے بعد ملزمان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے 18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت خاتون ہونے کی بنیاد پر منظور کرلی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نور مقدم کے دوستوں، رشتہ داروں اور سول سوسائٹی نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج

13 نومبر کو سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر کے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی تاہم ملزم انہیں پکڑ کر دوبارہ زبردستی اندر لے گیا۔ نور مقدم ملزم کے گھر سے باہر جانے کے لیے گیٹ پر آتی ہیں تاہم وہ گیٹ سے باہر جانے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں اور سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں چھپ جاتی ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاتا ہے کہ 19 جولائی کی رات دو بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم بڑے بیگ لے کر گھر کے مرکزی گیٹ سے باہر نکلتے ہیں، اور دو بج کر 40 منٹ پر باہر کھڑی ٹیکسی میں سامان رکھ کر دوبارہ واپس گھر کے اندر داخل ہوتے نظر آتے ہیں۔

اکتوبر میں شروع ہونے والا ٹرائل 22 فروری کو اختتام پذیر ہوا۔ چار ماہ کے اس عرصے کے دوران متعدد پیشیاں ہوئیں اور اب کیس کا فیصلہ 24 فروری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں سنایا جائے گا۔

ملزم کے حربے

مرکزی ملزم کا حلیہ بھی ان چار ماہ کے دوران تبدیل ہوتا رہا اور ان کو ایک بار کرسی جب کہ ایک بار اسٹریچر پر لٹا کر بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں پینے کا پانی نہ ہونے کی شکایت بھی کی اور جج کو مخاطب ہو کر کہا کہ اس عدالت میں پانی کا کوئی بندوبست کروا دیں۔ ملزم کے حلیے اور رویے میں بھی ٹرائل کے دوران تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔

ابتدائی سماعتوں پر ملزم کے بال لمبے اور داڑھی تراشی ہوئی تھی جبکہ وہ صرف انگریزی زبان میں گفتگو کرتے۔ کچھ سماعتوں کے بعد ان کے بال بڑھے ہوئے دیکھے گئے اور ان کا رویہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ وہ عدالت میں بھی کچھ بُڑبڑاتے اور پولیس کے ساتھ بھی دھکم پیل کرتے رہے۔ تاہم ٹرائل کے اختتام پر ملزم ظاہر جعفر کے بال بکھرے ہوئے اور داڑھی بھی بڑھی ہوئی تھی۔ وہ خاموشی سے عدالت کی کارروائی سنتے رہے اور اس پر کسی ردعمل کے اظہار سے گریز کیا۔

NOOR MUQADAM MURDER CASE

Tabool ads will show in this div