سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی تردید

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی، سابق ڈی جی آئی ایس آئی

ملک کے سب سے اہم انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی تردید کردی۔

موقر انگریزی روزنامے ‘’ دی نیوز“ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے چند روز قبل اپنے آبائی گاؤں کہوٹہ میں مقامی بااثر شخصیات سے ملاقات کی تھی، جس میں ان کی برادری کے عمائدین نے راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 7 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ جس اجلاس میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ ہوا ، اس میں وہ بھی شریک تھے، اجلاس کا حصہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس سارے معاملے کو سوشل میڈیا میں منفی طریقے سے پیش کیا جارہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے کہا کہ ان کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں تب سے تو ہم بالکل بھی نہیں ملے۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت بھی اختیار نہیں کی تاہم مستقبل کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے چند روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ میں سیاستدان نہیں بلکہ ‘ایکچولی نیوٹرل’ ہوں، مختلف جماعتوں کو ٹرائی کیا اور تیسری فورس کو بھی اجازت دی، لگا تھا کہ شاید تیسری فورس ڈیلیور کرسکتی ہے، وہ سسٹم ہمیں پی ٹی آئی کے اندر نظر آیا۔

ISI PTI

zahir ul islam

Tabool ads will show in this div