ضمانت دیتا ہوں سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا، وزیر اعظم

ہمیں ایسے فیصلےکرنے پڑیں گے جو بھی حکومت آئے وہ تبدیل نہ ہوں، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ضمانت دیتا ہوں کہ سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اتحادی حکومت ہے، اس کے کئی مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، موجودہ حکومت کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں چاروں صوبوں کی جماعتیں شامل ہیں۔ منفی پہلو یہ ہے کہ بعض معاملات پر مشاورت کا عمل بہت طویل ہوجاتا ہے.

شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیغام بھجوایا آئی ایم ایف سے ایک نہیں 2 ارب ڈالر مل جائیں گے، ہماری اصل منزل خود انحصاری کی ہے، خود انحصاری کسی بھی قوم کی معاشی اور سیاسی آزادی کی ضمانت ہوتی ہے، اس کے بغیر کوئی قوم آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بنگلادیش میں 6 ارب ڈالرکی لاگت سے بڑا انفرا اسٹرکچر بنایاگیا، وہاں کی حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے غیر ملکی امداد کے بغیر اسے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے جادو سے اسے نہیں بنایا بلکہ محنت کی اور نتیجہ سامنے آیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں،ریکوڈک میں اربوں روپے کا خزانہ دفن ہے، پولان تک ایران کی حکومت نے بجلی کی ٹرانسمیشن لائن مکمل کرلی، 5 سال میں ہم گوادر کے لیے 26 کلو میٹر کی لائن نہیں بچھا سکے۔ گوادر میں اسپتال اور ایئرپورٹ بننا تھا اب تک نہیں بن سکا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ گیس نہ ہونے کی وجہ سے 3 بجلی گھر اپنی استطاعت کے مطابق بجلی نہیں بنا سکتے۔ گزشتہ حکومت نے گیس کے سستے اور طویل مدتی معاہدے نہیں کیے، ایک وقت میں گیس 4 یا ساڑھے 4 ڈالر پر گیس مل سکتی تھی لیکن کسی نے اس توجہ ہی نہیں دی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں، مجھ سمیت سب کی ذمہ داری ہے، 75 سال ہم نے دعوے بڑے کئے لیکن عمل سے ہمارا دامن خالی ہے۔ جب کام کرنا ہو تو سارے دروازے کھل جاتے ہیں اور جب کام نہ کرنا ہو تو پولان والا معاملہ ہی ہوگا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، ہم پچھلی حکومت پر آسانی سے ملبہ ڈال دیتے اور کام کرتے نہیں، ہمیں ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہوکر ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں ایسے فیصلےکرنے پڑیں گے جو بھی حکومت آئے وہ تبدیل نہ ہوں۔

حکومت کی آئینی مدت کے دوران ترجیحات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم زراعت پر توجہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ شعبہ چند مہینوں میں ہی نتیجہ سامنے لے آتا ہے۔ ہمیں برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ 14 ماہ میں کوشش کریں گے کہ معاشی استحکام لائیں لیکن یہ سیاسی استحکام کے ساتھ منسلک ہے۔

کوئلے کی درآمدات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے جلد کوئلہ امپورٹ کریں گے، یہ خریداری پاکستانی روپےمیں ہوگی، اس سے 2 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

سپر ٹیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ سپرٹیکس کو اکثریت نےقبول کیا ہے ، اس سے 230ارب روپے آئیں گے، ضمانت دیتا ہوں کہ سپر ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا، اسے ملک کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

super tax

PM SHAHBAZ SHARIF

PMLN,

Tabool ads will show in this div