اسقاط حمل پرپابندی سے امریکی خواتین فوجیوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ

امریکی فوج میں جنسی حملے اور ناپسندیدہ حمل باقی معاشرے کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں

امریکا بھر میں اسقاط حمل پر پابندیاں امریکی فوج میں خواتین اہلکاروں کیلئے خاص طور پر تکلیف دہ ہوں گی جہاں جنسی حملے اور ناپسندیدہ حمل باقی معاشرے کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل کے آئینی تحفظ کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پینٹاگون کی پالیسیوں پر نظرثانی کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ وفاقی قانون کی اجازت کے مطابق تولیدی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاسکے، تاہم لائیڈ آسٹن نے فی الحال امریکی فوج میں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین اہلکاروں کی مدد کے لیے نئے اقدامات کا اعلان نہیں کیا۔

قدامت پسند ریاستوں جیسے ٹیکساس یا کینٹکی میں بڑے فوجی اڈوں پر جہاں یا تو پہلے سے ہی اسقاط حمل پر پابندیاں عائد ہیں یا جلد ہوں گی وہاں تعینات خواتین فوجیوں کو اسقاط حمل کیلئے ریاست سے باہر سفر کرنا پڑے گا اور ایک ایسا سویلین کلینک تلاش کرنا پڑے گا جو اس طریقہ کار کو انجام دے۔

1976 کے قانون کے تحت فوجی ڈاکٹر صرف اس صورت میں اسقاط حمل کر سکتے ہیں جب زیادتی ثابت ہو یا اگر ماں کی جان کو خطرہ ہو، معمولی فوجی تنخواہوں پر طبی اور سفری اخراجات پورے کرنا، چھٹیاں لینا اور ایسی جنسی سرگرمی کو ظاہر کرنا جسکی فوج میں حوصلہ شکنی کی جاتی ہو ان باتوں سے انکے کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فوج میں کام کرنے والی ایک نرس نے اے ایف پی کو بتایا کہ مجھے ڈر ہے خواتین غیر محفوظ طریقوں تک رسائی حاصل کرنے جارہی ہیں تاکہ انہیں یہ ظاہر نہ کرنا پڑے کہ انہیں چار یا پانچ دن کی چھٹی کی ضرورت کیوں ہے؟۔

جرنل ٹراما وائلس اینڈ ابیوز کی 2018 کی ایک اسٹڈی کے مطابق امریکی فوج میں خواتین 17 فیصد ہیں، اور فوجی بھرتیوں 75 فیصد 22 سال سے کم عمر ہوتے ہیں جو عام طورجوانی اور بچے پیدا کرنے کی عمر ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی فوجی جنسی صدمے کا شکار ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عصمت دری کے معاملات میں بھی خواتین فوجی ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔

فوج میں جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات اعلیٰ افسران کی طرف سے کیے جاتے ہیں اور اگر خواتین طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں انتقامی کارروائیوں کا خوف ہوسکتا ہے، خواتین مانع حمل کی ادویات کے لیے فوجی طبی ماہرین کی طرف رجوع کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں جن کے لیے ریاستہائے متحدہ میں ڈاکٹر کے نسخے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جریدے ملٹری میڈیسن کی 2020 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ فوجی خواتین جو خاص طور پر بحریہ میں خدمات انجام دے رہی ہیں، کو عام طور پر تعیناتیوں کے دوران جنسی سرگرمیوں کے لیے سرزنش کی جاتی ہے، بشمول وہ مشن جو اکثر آخری مہینوں کے اختتام پر ہوتے ہیں۔

AMERICAN SERVICE WOMEN

Abortion ban

AMERICAN ARMY

Tabool ads will show in this div